خطبات محمود (جلد 34) — Page 36
1953ء 36 خطبات محمود صلى رسول کریم ﷺ نے ایک دفعہ ایک شخص کے پاس آدمی بھجوایا کہ تم زکوۃ ادا کرو۔ اُس نے کہا دیکھو ! کتنا عملہ میں نے رکھا ہوا ہے۔ مجھے ان جانوروں کی خدمت کرنی پڑتی ہے، ان پر یہ یہ اخراجات ہوتے ہیں۔ لیکن یہ لوگ آجاتے ہیں اور کہتے ہیں دو چندے، اور دوز کو ۃ ۔ جب وہ پیغامبر واپس آگیا اور اُس نے رسول کریم ﷺ کو سارا واقعہ سنایا تو آپ نے فرمایا اس شخص سے آئندہ زکوۃ نہ لی جائے۔ بظاہر تو اسے ایک چیز مل گئی۔ اگر ہزار روپیہ سالانہ زکوہ تھی تو اُسے ہزار روپیہ سالا نہ بچ گیا۔ لیکن اس شخص کے اندر نیکی تھی۔ جب رسول کریم ﷺ کا پیغامبر چلا گیا تو اس کی آنکھیں کھلیں اور اس نے خیال کیا کہ چیز تو مل گئی ہے لیکن جنگی کے ساتھ ملی ہے۔ چنانچہ وہ زکوۃ لے کر رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رَسُولَ الله ! زکوۃ حاضر ہے۔ آپ نے فرمایا تم سے زکوۃ نہیں لی جائے گی۔ چنانچہ وہ روتا ہوا چلا گیا۔ پھر اگلے سال آیا اور نہ صرف اُس سال کی زکوٰۃ ساتھ لایا بلکہ پہلے سال کی زکوۃ بھی لایا اور کہا یا رَسُولَ الله ! میں نے پچھلے سال کی زکوۃ کے جانور بھی پالے تھے وہ بھی لایا ہوں اور اس سال کی زکوۃ بھی لایا ہوں حضور ! قبول فرمالیں ۔ آپ نے فرمایا نہیں تم سے زکوۃ نہیں لی جائے گی۔ آپ کی وفات کے بعد وہ شخص حضرت ابو بکر کے پاس زکوۃ لے کر آیا۔ آپ نے فرمایا جس شخص سے رسول کریم ﷺ نے زکوۃ قبول نہیں کی ۔ اُس سے میں بھی زکوۃ نہیں لوں گا 3۔ اگر کوئی بے ایمان شخص ہوتا تو کہتا چلو مزے ہو گئے اتنا مال مل گیا ہے ۔ لیکن ایک دیندار شخص یہ سمجھے گا کہ میں کچھ لے کر نہیں آیا۔ یہ لعنت ہے جو میں نے خریدی ہے۔ پس اگر کوئی شخص اُس چیز سے بھی گریز کرتا ہے جو اُس کے فائدہ کی چیز ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں نے خوب چکمہ دیا ہے اور اپنا خوب بچاؤ کیا ہے تو وہ کسی کا نقصان نہیں کرتا ۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ اس طرح کر کے ایک بھاری نعمت سے محروم رہتا ہے۔ در حقیقت وہ اپنی ناک آپ کا ٹتا ہے دوسرے کا کوئی نقصان نہیں کرتا۔ پس جس شخص سے پہلے غفلت ہوئی ہے خدا تعالیٰ اُسے سمجھ دے تو وہ باقی روزوں کو پور کرے۔ اگر چہ وہ باقی روزے رکھ کر اُس ثواب کو حاصل نہیں کر سکتا جو پہلے روزے رکھنے والوں نے حاصل کیا ۔ وہ وقت گزر گیا۔ ایک وقت ہوتا ہے جو اس سے فائدہ اٹھا لیتا ہے، اٹھا لیتا ہے۔ لیکن کہتے ہیں جاتے چور کی لنگوٹی ہی سہی ۔ اگر پہلے روزے نہیں رکھے اور اس طرح ثواب اور ایمان کی ترقی سے محروم رہے تو باقی روزوں کو رکھ کر جو ثواب ملتا ہے اسے کیوں جانے دو۔