خطبات محمود (جلد 34) — Page 362
1953ء 362 خطبات محمود میں سمجھتا ہوں کہ قرآن کریم میں رسول کریم ﷺ کو جو عبد اللہ کہا گیا ہے 2 ۔ اس میں یہی حکمت ہے کہ آپ نے اپنی ساری زندگی خدا تعالیٰ کی راہ میں لگا دی تھی ۔ باقی لوگ تھوڑی تھوڑی مدت کے لیے عباد اللہ بنتے ہیں ۔ کچھ بلوغت سے وفات تک کے عرصہ کے لیے عبد الله لیے عبداللہ ہوتے ہیں کچھ ایسے ہوتے ہیں جو دن کے کچھ حصوں میں عبداللہ ہوتے ہیں اور باقی حصوں میں عَبُدُ الدُّنْيَا يَا عَبُدُ الدِّينار ہوتے ہیں ۔ کچھ ایسے ہوتے ہیں جو عبد اللہ کم ہوتے ہیں اور عبد الدُّنیا اور عبد الدينار زیادہ ہوتے ہیں۔ لیکن رسول کریم ﷺ کامل ترین عبداللہ عبد الله ۔ تھے ۔ جن کی زندگی کی ایک ایک ساعت خدا تعالیٰ کی رضا مندی میں گزری ۔ اور یہ وہ مقام ہے جس میں نہ کوئی پہلے آپ کا شریک ہوا اور نہ آئندہ شریک ہوسکتا ہے۔ صلى الله بہر حال اس پیچیدہ زندگی میں تین دن عبداللہ بننے کی کوشش کرنا کوئی بڑی بات نہیں ۔ دوسرے دنوں میں رات دن دوسری طرف کھینچنے والی چیزیں موجود ہوتی ہیں لیکن جلسہ کے دنوں میں صرف دین کی طرف کھینچنے والی چیزیں باقی رہ جاتی ہیں ۔ لاہور اور کراچی میں تو یہ حال ہے کہ انسان دین کی طرف کوشش کر کے جاتا ہے۔ دنیا کی طرف کھینچنے والے موجبات زیادہ ہوتے ہیں۔ لیکن جلسہ کے دنوں میں دنیا کی طرف کھینچنے والی چیزیں نہیں ہوتیں ۔ ساری کشش دین کی طرف ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص ان دنوں میں بھی دنیا کی طرف جاتا ہے تو وہ رستہ کاٹ کر جاتا ہے۔ اور یہ کتنی بد قسمتی کی بات ہے کہ کسی کو تین دن عبد اللہ بننے کے لیے ملیں اور ان کو بھی وہ ضائع کر دے۔ میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ ملاقاتوں کے متعلق پروگرام گو بنا دیا گیا ہے لیکن جیسا کہ جماعت کو معلوم ہے میری بیماری بڑھتی جا رہی ہے۔ خطبہ کے بعد بھی میرا کئی دن تک گلا بیٹھا رہتا ہے۔ اس لیے میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ جلسہ کے موقع پر میں کس حد تک بول سکوں گا۔ انتڑیوں کے تشنج کے علاج کے طور پر میں جو دوائی استعمال کرتا ہوں وہ نہ صرف ضعف پیدا کرتی ہے بلکہ نیند بھی لاتی ہے ۔ بسا اوقات کام کرتے کرتے اونگھ آجاتی ہے۔ میں نے ایک دو دن کے لیے دوائی کا استعمال چھوڑ دیا تھا۔ لیکن تکلیف دوبارہ شروع ہوگئی اس لیے دوائی کا استعمال دوبارہ شروع کر دیا گیا۔ ہے ۔ پس ملاقاتوں کے لیے وقت تو رکھ دیا گیا ہے اور میں کوشش کروں گا کہ ہر جماعت کو ملاقات کا موقع دیا جا سکے۔ لیکن ہر شخص کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ معذوری اور بیماری انسان کے اختیار میں نہیں