خطبات محمود (جلد 34) — Page 340
$1953 340 خطبات محمود بہر حال قبل از جنگ اوسط قیمت گندم کی تین ساڑھے تین روپے فی من تھی۔اب حالت یہ ہے کہ میرا خیال ہے کہ پانچ ، چھ روپے فی من سے قیمت نہیں گرے گی۔پس فصل کی قیمت بڑھانے کی بجائے ہمیں پیداوار کو بڑھانے کی کوشش کرنی چاہیے اور یہ کام ہم نہیں کرتے۔ہم فصل کی قیمت بڑھا کر اپنی آمد کو زیادہ کرتے ہیں۔حالانکہ چاہیے یہ تھا کہ ہم اپنی فصل بڑھا کر آمد بڑھاتے۔مثلاً کپاس اور گڑ ہے۔گڑ کی پیداوار ہمارے ملک میں پچاس سے سومن فی ایکڑ ہے لیکن یہ بھی خاص ضلعوں میں لیکن ان ممالک میں 300 من فی ایکڑ پیداوار ہے۔تم اسے مہنگا تی کرلو تو سارا ملک چیختا ر ہے گا۔لیکن اگر اس کی مقدار زیادہ کر لو تو 1500 روپے فی ایکڑ آمد ہو سکتی ہے۔یہ سب باتیں میں جانتا ہوں اور ان کے جواب بھی جانتا ہوں بلکہ زمینداروں کو تو میں کہتا ہے ہوں کہ جو تباہیاں تمہاری فصلوں پر آئی ہیں وہ میری فصلوں پر بھی آئی ہیں۔جن حالات سے تم ہی گزرے ہوا نہی حالات سے میں بھی گزرا ہوں۔اس لیے تم یہ نہ کہو کہ ہماری آمد کم ہوگئی ہے۔میں جانتا ہوں کہ اگر تمہاری آمد ایک طرف سے کم ہو جاتی ہے تو دوسری طرف بڑھنے کے امکان بھی ہوتے ہیں۔ہمیں زمین اور زمینی چیزوں سے صلح نہ رکھنی چاہیے۔ہمیں اُس ہستی سے صلح کرنی چاہیے جس نے زمین کو پیدا کیا ہے، جس نے طاقت پیدا کی ہے۔اگر تم اس سے صلح کرو گے ، اگر تم اسے اپنی قربانیوں سے خوش کرو گے تو وہ زمین سے سونا اُگلوائے گی اور تمہارے گھروں کو آرام کی اور راحت سے بھر دے گی۔خدا تعالیٰ جب کہتا ہے کہ جنت میں مومنوں کو ایسی نہریں ملتی ہیں جن کی میں دودھ اور شہد چلتا ہے 5۔خدا تعالیٰ جب کہتا ہے کہ مومنوں کو جنت میں صاف شفاف محل ملتے ہیں 6 خدا تعالیٰ جب کہتا ہے کہ جنت میں مومن جو چیز مانگیں گے وہ انہیں میسر آجائے گی 7 انہیں جنت میں اعلیٰ سے اعلیٰ غذا ئیں ملیں گی 8 تو ہمارا خدا صرف اگلے جہان کا ہی خدا نہیں۔وہ اس جہان کا بھی خدا ہے۔اگر تم اس کے بنائے ہوئے طریق پر چلو اور محنت سے کام کرو تو اس دنیا تھی میں بھی وہ تمہیں دودھ اور شہد کی نہریں دے گا۔اس دنیا میں بھی وہ تمہارے لیے فراوانی کے سامان پیدا کر دے گا اور تم اس کی رحمتوں اور فضلوں کو دیکھ لو گے۔لیکن اگر یہ ہو کہ جس دن تمہارے پاس روپیہ آئے اُسی دن تم خدا تعالیٰ کی نافرمانی کرنے لگو، غریبوں پر ظلم کرنے لگو ، زمین پر اکڑ کر چلنے لگو ،