خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 341

$1953 341 خطبات محمود ہمسایوں سے میٹھے منہ بات بھی نہ کرو۔تو وہ تم پر کیوں فضل کرے گا ؟ وہ تمہیں اس دنیا میں جنہ کیوں دے گا جب کہ تم نے خود دوزخ لے لیا۔وہ کہے گا میں جنت تھا تم نے مجھے اپنے دلوں۔نکال دیا اور شیطان ، جو دوزخ تھا اُسے اپنے دلوں میں جگہ دے دی۔پس اپنے عظیم الشان مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے اور یہ یا در کھتے ہوئے کہ جس قدرتم قربانی کرتے ہو اس قدر تم خدا تعالیٰ کے قریب ہو جاؤ گے۔اور یہ جانتے ہوئے کہ تمہاری ان کے حقیر قربانیوں ہی کی وجہ سے ہر جگہ مجھے نیچے دکھانے والے ناکام رہے تم خوشی اور بشاشت سے آگے بڑھو اور پہلے سے بڑھ چڑھ کر وعدے لکھواؤ تا دنیا میں اشاعت اسلام ہو سکے اور تمہارا نام مجاہدوں کی فہرست میں لکھا جائے۔“ (مصلح 11 دسمبر 1953ء) 1: الفرقان: 53 2 صحیح بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی ا باب مناقب علی ابن ابی طالب۔3 استمالت قلب: دل جوئی، تالیف قلب ( اردو لغت تاریخی اصول پر جلد اول صفحہ 463 کراچی 1977ء) :4 صحیح بخاری کتاب المغازی باب غزوة الطائف في شوال۔۔۔۔۔5: مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ فِيهَا أَنْهُرُ مِنْ مَّاءٍ غَيْرِ أُسِنٍ ۚ وَأَنْهُرٌ مِنْ لَبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرُ طَعْمُهُ وَأَنْهرُ مِنْ خَمْرٍ أَذَةٍ لِلفَرِبِينَ وَأنهُرُ مِنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى ( محمد : 16) : تَبْرَكَ الَّذِي إِنْ شَاءَ جَعَلَ لَكَ خَيْرًا مِنْ ذَلِكَ جَنَّتٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهرُ وَيَجْعَلْ نَّكَ قُصُورًا (الفرقان: 11) وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِيَ أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُوْنَ ( حم السجدة : 32) مَا : فِيْهِمَا فَاكِهَةٌ وَنَخْلُ وَرُمَّانَ (الرحمن (69) حَدَابِقَ وَأَعْنَابًا (النبا : 33) كُلُوا وَاشْرَبُوا هَيْنَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ (المرسلت :44) :