خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 293 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 293

1953ء 293 خطبات محمود آ جاتا تھا۔ اِس کے بعد خیال کیا گیا کہ ناخن گوشت کے اندر گھس گیا ہے۔ انگریزی میں اس کو Ingrowing Toe nail کہتے ہیں ۔ اس بیماری میں ناخن گوشت کے اندر گھسنا شروع ہو جاتا ہے۔ مئی کے آخر میں یا جون کے شروع میں میں لاہور گیا ۔ اور ایک ڈاکٹر کو زخم دکھایا تو اُس نے بھی کہا کہ یہی بیماری ہے۔ اور اس کا آپریشن کرانا ضروری ہے ۔ چونکہ جلد ہی میں نے سفر سندھ پر جانا تھا اور وہاں جا کر کام کے سلسلہ میں گھوڑوں پر سواری بھی کرنی پڑتی ہے اس لیے خیال کیا کہ سواری کرنے کی وجہ سے تکلیف بڑھ جائے گی اس لیے سفر سے پہلے آپریشن نہ کرایا جائے ۔ ڈاکٹر ر صاحب کو جب سفر کے متعلق بتایا گیا تو انہوں نے نے بھی بھی تسلیم کیا کہ اس طرح بیہ بیماری بڑھ جائے گی اور اس عمر میں زخم دیر میں ٹھیک ہوتا ہے ۔ اس لیے انہوں نے اس بات کی اجازت عمر ہے۔ دے دی کہ آپریشن سفر سے واپسی پر کرالیا جائے ۔ میں نے بھی یورپ کے سفر پر جانا ہے اُس وقت تک میں بھی سفر سے واپس آ جاؤں گا ۔ ۔ اسی تسلسل میں جب ہم سفر سے واپس آئے تو سرجن کو اطلاع دی لیکن ساتھ ہی بعض مشکلات پیش تھیں جن کی بناء پر سفر مشکل معلوم ہوتا تھا۔ اسی کشمکش میں ہر دفعہ سفر آٹھ دس دن تک ملتوی ہوتا رہا۔ اب جس دن لاہور جانے کا ارادہ تھا اُس سے ایک دن پہلے ایک احمدی جزاح محمد اسماعیل صاحب شیخو پورہ ( آگئے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے بھی ایسے علاج کیے ہیں ۔ میرے خیال میں اس زخم کا علاج ہو سکتا ہے۔ آپ مجھے زخم دکھا دیں۔ چنانچہ میں نے انہیں زخم زخم کا ہوسکتا مجھے زخم دکھایا ۔ انہوں نے بتایا میں نے اس سے قبل اس قسم کے علاج کیے ہیں ۔ میرے نزدیک میں اس زخم کا علاج کر سکتا ہوں ۔ آپ دو دن تک اس زخم پر پانی کی پٹی کریں۔ اور کچھ تدبیریں بتائیں کہ دو دن تک ایسا کریں ۔ تیسرے دن آکر میں آپریشن کر دوں گا۔ میں نے کہا ناخن کاٹنے سے ۔ تکلیف ہوگی ۔ انہوں نے کہا ناخن کاٹنے کی وجہ سے کسی تکلیف کا احتمال نہیں ہو سکتا ۔ چونکہ ہمارے ملک سے پرانے پیشے مفقود ہو رہے ہیں اس لیے مجھے اُن کے ایسا کہنے سے تسلی نہ ہوئی ۔ عام طور پر جتنے بھی پیشے تھے باوجود اس کے کہ وہ نہایت قیمتی تھے لوگوں کی نظر میں گر گئے ہیں۔ چونکہ اول تو تجربہ کے ساتھ ساتھ علم کا ہونا ضروری ہوتا ہے اور وہ علمی حصہ ہمارے ملک سے جاتا رہا ہے۔ ہمارے ملک میں بڑے بڑے ماہر فن انجینئر ہیں ۔ مگر علمی طور پر وہ اس کے متعلق کچھ نہیں جانتے ۔