خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 286

1953ء 286 خطبات محمود الله صلى الله پس مامور کی مثال ان انسانوں کی طرح ہوتی ہے جو گاڑی یا موٹر کو دھگا دیتے ہیں۔ جب کوئی گاڑی کہیں پھنس جاتی ہے۔ تو لوگ اُسے دھگا دیتے ہیں ۔ اور اس کے بعد وہ خود بخود چلتی ہے۔ اگر دھگا دینے کے بعد بھی وہ خود نہیں چلتی تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ خراب ہے۔ اگر دھگا دینے کے بعد گاڑی چل پڑتی ہے اور چلتی چلی جاتی ہے تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس کے سامنے کوئی عارضی روک تھی اور اب وہ روک دور ہو گئی ہے۔ پس مامورین جب دنیا میں آتے ہیں تو اُن کے آنے کی غرض گاڑی کو دھگا دینا ہوتا ہے۔ وہ منزل مقصود تک نہیں پہنچاتے ۔ آج تک دنیا میں کوئی ایسا ما مور نہیں آیا جس نے ماموریت کے پیغام کو انتہا تک پہنچا دیا ہو ۔ محمد رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر کوئی انسان نہیں لیکن آپ کے بعد بھی خلفاء آئے جنہوں نے آپ کے کام کو جاری رکھا۔ پھر خلفاء کے بعد اولیائے امت نے آپ کے کام کو جاری رکھا۔ یہاں تک کہ مسلمان تھک کر چُور ہو گئے اور نے اس گاڑی کو دھکا دینے سے انکار ا دینے سے انکار کر دیا جس کو محمد رسول اللہ ﷺ نے دھکا دے کر چلایا تھا۔ ہماری جماعت کو بھی اس قسم کے مقصد کے لیے خدا تعالیٰ نے کھڑا کیا ہے۔ اب دو ہی باتیں ہیں یا تو ہم یہ کہیں کہ ہم مامور نہیں اور ہمیں کسی مقصد کے لیے کھڑا نہیں کیا گیا۔ اور یا یہ کہیں کہ ہمیں جس مقصد کے لیے کھڑا کیا گیا ہے وہ پورا نہیں ہو سکتا۔ اور یا یہ مانیں کہ جس مقصد کے لیے ہمیں کھڑا کیا گیا ہے وہ پورا ہو سکتا ہے بشرطیکہ ہم اپنا فرض ادا کریں۔ جہاں تک اس چیز کا سوال ہے کہ ہمیں کسی مقصد کے لیے کھڑا نہیں کیا گیا یہ بالکل غلط ہے۔ اگر ہم یہ کہیں کہ ہمیں کسی مقصد کے لیے کھڑا نہیں کیا گیا تو ہمارا تمام دعوی باطل ہو جاتا ہے۔ کیونکہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر خدا تعالیٰ نے الہام نازل کیا ہے اور آپ کو دنیا کی اصلاح کے لیے مبعوث کیا ہے تو ہم تسلیم کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے آپ کی جماعت کو بھی مامور کیا ہے ۔ اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ تاریخ ، مذہب احادیث اور روایتوں سے کوئی ایسا نبی ثابت نہیں جس کا کام اُس کی ذات انہوں ایسا ثابت تک محدود ہو، کوئی مرسل ایسا ثابت نہیں جس کا کام اُس کی ذات تک محدود ہو، کوئی نبی ایسا۔ نا نہیں جس کا کام اس کی ذات تک محدود ہو ۔ کوئی مصلح اور کوئی مجد د بھی ایسا ثابت نہیں جس کا کام اُس کی ذات تک محدود ہو ۔ اب مرزا صاحب کو تم مرسل کہہ لو مصلح کہہ لو ، مجدد کہہ لو ۔ کم از کم مجدد سے نیچے آپ کو ماننے والا تو کوئی نہیں جاسکتا ۔ اور جب دنیا میں کوئی مجد د بھی ایسا نہیں آیا