خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 275 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 275

1953ء 275 33 خطبات محمود اگر تم قرآن کریم پڑھ کر اس سے فائدہ اٹھاتے ہو تو تم سے بڑھ کر خوش قسمت اور کوئی نہیں فرموده 2 اکتوبر 1953ء بمقام ربوہ ) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔ دو ہر ایک کام اپنی تکمیل کے لیے مختلف مدارج چاہتا ہے۔ یہاں تک کہ چھوٹے سے چھوٹے کام بھی یکدم نہیں ہو جایا کرتے اور وہ بھی مختلف مدارج میں سے گزرتے ہوئے اپنی تکمیل کو پہنچتے ہیں۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے کام بھی تدریجی طور پر ہوتے ہیں ۔ اسی وجہ سے خدا تعالیٰ کا نام رَبُّ الْعَالَمِينَ ہے یعنی وہ آہستگی کے ساتھ ایک چیز کو درجہ بدرجہ ترقی دیتے ہوئے اسے اس کے کمال تک پہنچاتا ہے ۔ رب العالمین کے الفاظ نے دونوں طرف کے حالات کو بیان کر دیا ہے۔ خدا تعالیٰ کی صفات کے ظہور کے لیے لفظ " ربّ " ہے ۔ کہ وہ یکدم کسی چیز کو کمال تک نہیں پہنچا دیتا ۔ بلکہ پیدا کرنے کے بعد تدریجی طور پر اسے ترقی دیتا چلا جاتا ہے۔ اور مخلوق کے حالات کو " الْعَالَمِین " کے لفظ نے بیان کیا ہے کہ یہ قانون کسی ایک چیز کے لیے نہیں بلکہ وہ ہر ایک چیز کے لیے " رَبِّ " ہے۔ پس " رَبّ" کے لفظ نے بتا دیا کہ خدا تعالیٰ جو کام بھی دنیا میں کرتا ہے وہ تدریجی طور پر آہستہ آہستہ کرتا ہے۔ اور ' ، اور " الْعَالَمِين " نے بتا دیا کہ یہ قانون مخلوق کے کسی