خطبات محمود (جلد 34) — Page 271
$1953 271 خطبات محمود ترجمہ پڑھنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔محکمہ تعلیم اور لوکل انجمن بھی اس بات کا انتظام کرے اور پھر اس کی نگرانی کرے۔ہر گھر میں دیکھا جائے کہ آیا اس میں ترجمہ والا قرآن کریم ہے؟ اور پھر گھر والوں کو کہا جائے کہ وہ ترجمہ پڑھنے کی عادت ڈالیں۔اور جو شخص بالکل نہیں پڑھ سکتا اُسے مجبور کیا جائے کہ وہ کسی دوسرے سے ترجمہ سنے۔ربوہ میں تو یہ سہولت ہے کہ ہر گھر میں اول تو مرد اور عورت دونوں قرآن کریم کا ترجمہ پڑھنا جانتے ہے ہیں۔ورنہ بیوی نہیں جانتی تو خاوند پڑھنا جانتا ہے۔خاوند نہیں جانتا تو بیوی جانتی ہے۔اگر دونوں نہیں ہے جانتے تو کوئی نہ کوئی لڑکا یالڑ کی جانتی ہے۔ہزار، دو ہزار گھروں میں سے شاید کوئی گھر ایسا ہو جس میں کوئی ترجمہ پڑھنے والا نہ ہو۔اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ ربوہ میں سب لوگ آسانی کے ساتھ قرآن کریم کا ترجمہ نہ پڑھ سکیں۔عید الفطر اور بعض دوسری تقاریب پر غرباء کو کپڑوں وغیرہ کے لیے روپیہ دیا جاتا ہے۔کیا وجہ ہے کہ انہیں قرآن کریم خرید کر نہ دیا جائے۔آخر ہر سال ہزاروں روپیہ غربا کے لیے خرچ کیا جاتا ہے۔اگر انہیں خود احساس نہیں تو اسی مدد سے قرآن کریم با ترجمه خرید کر دینے کے لیے کچھ رقم کاٹ لو۔اور اس کے سے انہیں قرآن کریم خرید کر دے دو۔اگر اس کے نتیجہ میں انہیں اخراجات میں تنگی محسوس ہو تو اُس کی ذمہ داری خود اُن پر عائد ہوگی۔پس ہر گھر کی نگرانی کرو۔اور اُن سے کہو کہ وہ ترجمہ قرآن کریم پڑھیں۔اگر تم ایسا کرنے لگ جاؤ گے تو یقینا تم اپنے عمل میں بھی تغیر محسوس کرو گے۔مجھے افسوس ہے کہ عیسائی مبدل ومحرف بائیبل کے واقعات سے بہت زیادہ واقف ہیں۔لیکن مسلمان قرآن کریم سے واقف نہیں۔عیسائیوں میں سے ایک ادنی جاہل، نوکر ، باورچن، کپڑے دھونے والا ، برتن مانجنے والا اور جھاڑو دینے والی عورت بھی بائیبل کچھ نہ کچھ جانتی ہے۔اور اُن کا طریق ہے کہ کی ہر خاندان میں ایک فیملی بائیل ہوتی ہے۔اور وہ چار چار پانچ پانچ پشتوں سے خاندان کے پاس محفوظ رہتی ہے۔اور باری باری خاندان کے ہر بڑے شخص کے پاس منتقل ہوتی رہتی ہے۔اگر کسی کو قسم دینی ہوتی ہے تو خاندانی بائیبل لے کر اس پر قسم دیتے ہیں۔اور پھر یہ ریکارڈ رکھا جاتا ہے کہ یہ بائیبل فلاں کے پاس تھی۔پھر فلاں کے پاس آئی، اُس کے بعد فلاں کے پاس آئی۔اس طرح خاندان میں بائیبل کا تھی احترام آتا جاتا ہے۔اگر یہ اصول عیسائیوں نے اختیار کر لیا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس لیے اختیار نہ کریں