خطبات محمود (جلد 34) — Page 266
$1953 266 خطبات محمود کہ حساب کے متعلق اسے ہر قسم کے ضروی اُصول یاد ہوں۔اسی طرح ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ اُسے اسلام کے تمام ضروری اُصول اور احکام یاد ہوں۔محض یہ کہ دینا کہ اسلام کی تعریف ہے کہ کلمہ پڑھ لو یہ اسلام کی مکمل تعریف نہیں۔اگر ہم کہتے ہیں کہ کلمہ شہادت اسلام کی تعریف ہے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ کلمہ کے پیچھے جو حقیقت ہے اُس پر ایمان لانا اور عمل کرنا اسلام ہے۔جب ہم کہتے ہیں کہ لَا إِلهَ إِلَّا اللہ کہنے سے انسان مسلمان ہوتا ہے تو اس سے ہماری یہی مراد ہوتی ہے ہے کہ عقائد کے متعلق جو تعلیم قرآن کریم نے دی ہے وہ اس پر ایمان رکھتا ہے۔جب ہم کہتے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانا اسلام کومکمل کرنا ہے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺہے جو قرآن کریم لائے اور اُس کی جو تشریح آپ نے فرمائی، جو شخص اُس کے مطابق عمل کرتا ہے وہ مسلمان ہے۔اگر صرف لَا إِلَهَ إِلَّا الله کہہ دینے سے انسان مکمل مسلمان بن جاتا ہے۔تو لَا إِلَهَ إِلَّا الله من سے تو ہزاروں عیسائی بھی پڑھتے ہیں۔پس خالی لا الہ الا اللہ سے کیا بنتا ہے۔صلى الله صلى الله منه پس حقیقتا جو اسلام ہے۔وہ قرآن کریم پر ایمان اور عمل ہے۔کلمہ سے ہم محض اس طرف اشارہ کرتے ہیں اور عمل سے بھی ہم محض اس طرف اشارہ کرتے ہیں۔گویا نہ صرف لفظی توحید سے انسان مسلمان ہوتا ہے اور نہ قرآن کریم کے تمام احکام پر عمل کرنے سے ہی انسان لا زما مسلمان ہو سکتا ہے۔ہوسکتا ہے کہ قرآن کریم کے بعض احکام اس کے لیے ضروری نہ ہوں۔مثلاً زکوۃ ہے۔ایسے بھی مسلمان ہیں جن پر زکوۃ واجب نہیں۔حج ہے وہ ہر مسلمان کے لیے ضروری نہیں۔حج صرف صاحب استطاعت لوگوں پر فرض ہے۔پھر اس قسم کی لاکھوں جزئیات ہو سکتی ہیں جن پر کسی انسان کا علم حاوی نہیں ہے ہوسکتا۔تو پھر کیا ایسا انسان مسلمان نہیں رہ سکتا ؟ پس علم توحید کا اصولی علم جس کے ساتھ انسان مسلمان ہوتا ہے لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ پڑھ لینے سے حاصل نہیں ہوتا۔علم تو حید کا اصولی علم قرآن کریم سے حاصل ہوتا ہے۔اور وہ عملی اصول جن سے ایمان اور اسلام مکمل ہوتا ہے۔محمد رسول اللہ اللہ کہنے سے حاصل نہیں ہوتے بلکہ وہ قرآن کریم کی تعلیم میں ہیں۔اور قرآن کریم پڑھنے سے آتے ہیں۔بغیر قرآن کریم پڑھے اور اس کا مطلب سمجھے لا اله الا اللہ کہنا یا مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ کہنا ایک گر تو ہے۔یہ ایک منتر تو ہے لیکن اس کے پیچھے کوئی حقیقت نہیں۔لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ میں جان تب پڑتی ہے جب اس میں قرآن کریم ڈالا جائے۔اور جب قرآن کریم ڈالا جائے