خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 255

1953ء 255 خطبات محمود اس نے کچھ جواب نہ دیا۔ لیکن جب وہ اپنے گھر پہنچا تو اُس نے دیکھا کہ وزیر کے آدمی روپیہ لیے کھڑے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ اتنا روپیہ آپ کے قرضہ کے لیے بھجوایا گیا ہے اور اتنا روپیہ آپ نے کے لیے کے کھانے پینے کی ضروریات کے لیے دیا گیا ہے۔ اب دیکھ لو جب تک اُس پر حقیقت ظاہر نہیں ہوئی تھی اُس کے دل میں نفرت کے جذبات پائے جاتے تھے کہ یہ شخص مجھ سے اتنے تعلق کا اظہار کرتا تھا۔ مگر وقت آنے پر بالکل بے وفا ثابت ہوا مگر جب اس پر حقیقت کھلی تو یقیناً اس کے دل میں شرمندگی پیدا ہوئی ہوگی کہ میں نے بلا وجہ اس پر بدظنی کی ۔ تو اللہ تعالیٰ جب اپنے کسی بندے سے نیک سلوک کرے اور اسے پتا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ مجھے سے یہ سلوک کر رہا ہے تو اُس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا نہیں ہوتی۔ لیکن جب اُسے نظر آجائے کہ میرے ساتھ حُسنِ سلوک کرنے والے سے خدا تعالیٰ حُسنِ سلوک کرتا ہے اور میرے ساتھ بُرا سلوک کرنے والے سے خدا تعالیٰ بُرا سلوک کرتا ہے۔ اور اسے دکھائی دینے لگے کہ اگر اس میں خدا کا ہاتھ کام کر رہا ہے تو اس کی حالت بالکل بدل جاتی ہے اور اس کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت اتنی ترقی کر جاتی ہے کہ کوئی چیز اس کی اس محبت کو کاٹ نہیں سکتی ۔ اور وہ اس کے قرب میں بڑھتا چلا جاتا ہے۔ پس نماز کا اعلیٰ مقام یہ ہے کہ انسان جب نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہو تو اُسے یہ یقین کامل ہو کہ وہ خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے ۔ اس کے یہ معنے نہیں کہ جیسے ہندو کہتے ہیں کہ انسان عبادت کے رہا ہے۔ یہ وقت یہ سوچنا شروع کر دے کہ ایک بت جو اس کے سامنے ہے وہ خدا ہے، اسی طرح وہ مسلمان بھی سوچنا شروع کردے۔ کیونکہ اسلام وہم نہیں سکھاتا، اسلام کوئی جھوٹا تصور انسانی ذہن میں پیدا نہیں کرتا۔ اسلام یہ سکھاتا ہے کہ جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو تمہیں اس امر کی کامل معرفت حاصل ہو کہ تم سے نیک سلوک کرنے والے سے خدا تعالیٰ نیک سلوک کرتا ہے اور تم سے بُرا سلوک کرنے والے سے خدا تعالیٰ بُرا سلوک کرتا ہے۔ اگر تم کو بھی یہ نظر آجائے اور تم کو بھی یہ محسوس ہونے لگ جائے کہ جس نے تمہارے ساتھ نیک سلوک کیا تھا اسکے ساتھ خدا تعالیٰ نے نیک سلوک کیا اور جس نے تمہارے ساتھ بُرا سلوک کیا تھا اس کے ساتھ خدا تعالیٰ نے بُرا سلوک کیا ۔ تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ