خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 236

1953ء 236 خطبات محمود نے دعویٰ کیا تو مولویوں نے آپ پر کفر کے فتوے لگائے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بار بار ان لوگوں سے کہا کہ میرا کیا قصور ہے میں تو اسلام کی تعلیم ہی پیش کرتا ہوں ۔ مگر مولوی اپنی مخالفت میں بڑھتے چلے گئے۔ چنانچہ 1891 ء میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے سارے ملک کا دورہ کیا اور مولویوں سے کفر کا فتویٰ لے کر شائع کروایا ۔ جس میں آپ کو کافر ، مرتد ، دجال ، نمرود، شداد ، فرعون اور ابلیس وغیرہ کہا گیا ۔ پھر یہ بھی کہا گیا کہ ان کی عورتیں بھگا لینا جائز ہے۔ ان کی اولا د ولد الزنا ہے اور ان کو مسجدوں میں داخل ہونے دینا منع ہے۔ بلکہ قبرستانوں میں ان کو دفن کرنے کی بھی اجازت نہیں ۔ غرض جو کچھ ممکن تھا وہ انہوں نے کیا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہی فرمایا کہ میں تو اسلام کو زندہ کرنے کے لیے آیا ہوں ۔ تم کیوں میرے پیچھے پڑ گئے ہو؟ میں تمہارا کیا بگاڑتا ہوں؟ مگر اس پر بھی لوگ باز نہ آئے اور وہ متواتر دس سال تک گالیاں دیتے چلے گئے ۔ اس پر 1901ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اعلان فرمایا کہ اس حدیث کے مطابق کہ ایک مسلمان کو کافر کہنے والا خود کافر ہو جاتا ہے 3 ۔ مجھے کافر قرار دینے والے خود کافر ہو چکے ہیں 4 یہ سن کر مولویوں نے پھر شور مچا دیا کہ ہم پر کفر کے فتوے لگائے جاتے ہیں ۔ اور یہی شور اب تک مچایا جا رہا ہے۔ کوئی نہیں سوچتا کہ پہلے فتوے لگانے والے کون تھے ۔ اور انہوں نے ہم کو کیا کچھ کہا۔ ہم نے تو اس کا 1/80 حصہ بھی کسی کو کچھ نہیں کہا۔ جس قدر کہ ان مولویوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حق میں کہا ہے مگر پھر بھی یہ سیخ پا ہوئے جاتے ہیں ۔ اگر ہم کو کافر ، دجال ، ملحد ، ابلیس، شدّاد ، فرعون اور ابو جہل وغیرہ کہنا اُن کے لیے جائز ہو گیا تھا۔ تو کیا ان کے ایسا کہنے سے اشتعال پیدا نہ ہوتا تھا ؟ حقیقت یہی ہے کہ ان لوگوں کو اپنی کثرت اور طاقت پر گھمنڈ ہے ۔ جیسے بھیڑیے نے بکری کے بچے کو کہا تھا کہ آگے سے جواب دیتا ہے؟ وہی سلوک ہمارے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ شورش کے دنوں میں میں نے کہا تھا کہ خدا ہمیں فتح دے گا۔ اس پر حکومت نے سیکیورٹی ایکٹ کے ماتحت مجھے کہا کہ تمہاری زبان بندی کی جاتی ہے کیونکہ تم نے اشتعال دلایا ہے۔ حالانکہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے کوئی مصلح ایسا نہیں ہوا جس نے اصلاح کا دعوی کیا ہو اور پھر یہ کہا ہو کہ میں ہاروں گا ۔ ہر ایک نے یہی کہا ہے کہ میں جیتوں گا ۔ قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ