خطبات محمود (جلد 34) — Page 237
$1953 237 خطبات محمود فرماتا ہے کہ فَإِنَّ حِزْبَ اللهِ هُمُ الْغُلِبُونَ 5 - اب کیا قرآن کریم نے اپنے ان الفاظ میں کی غیر مسلموں کو اشتعال دلایا ہے؟ پھر ہمارا کیا قصور ہے؟ ہمارا یہی قصور ہے کہ ہم نے خدا کی بات کہی کہ ہم حزب اللہ ہیں اور بچے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ ہم غالب آئیں گے۔دنیا میں ہر شخص اپنے آپ کو ایمان دار اور صالح قرار دیتا ہے خواہ وہ جھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔لیکن ان لوگوں نے خود ہٹلر والا قانون اختیار کر رکھا ہے۔بلکہ میں تو کہوں گا کہ کسی ظالم سے ظالم حکومت نے بھی کبھی یہ نہیں کہا کہ کہو ہم ہاریں گے اور ہم جھوٹے ہیں۔جب قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ حزب اللہ غالب ہوگا تو پھر ہم کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ ہم ہاریں گے۔یہ بات قطعی طور پر ناممکن ہے کیونکہ ایسا ہم اُس وقت کہہ سکتے ہیں جب کہ ہم اپنے جھوٹا ہونے کا اقرار کریں۔سو ہمارا قصور اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ قرآن کریم کے مطابق ہم کہتے ہیں کہ ہم غالب آئیں گے۔لوگوں نے سختیاں دوسروں پر بھی کی ہیں۔لیکن کسی کو یہ کہنے کے لیے مجبور نہیں کیا کہ تم کہو کہ ہم جھوٹے ہیں۔سو اگر خدا تعالیٰ نے اپنی جماعت کو کہا ہو کہ تم جیتو گے تو اس میں ہماری کیا غلطی ہے کہ ہم سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے۔گو کھلے لفظوں میں نہیں لیکن مطلب یہی ہوتا ہے کہ تم یہ نہ کہو کہ ہم جیتیں گے بلکہ یہ کہو کہ ہم ہارنے والے ہیں۔مگر ہم نے تو قرآن کی بات ماننی ہے لوگوں کی نہیں۔قرآن کریم کے مطابق ہم یہی کہتے ہیں کہ ہم حزب اللہ ہیں اور ہم جیتیں گے۔اور اگر یہ لوگ ہم سے کہیں کہ نعوذ باللہ خدا اور ی رسول جھوٹے ہیں تو ہم کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ وہ جھوٹے ہیں۔ہم تو وہی کہیں گے جو قرآن کہتا ہے ہے۔اور پھر یہ بھی غلط ہے کہ اس سے اشتعال پیدا ہوتا ہے، خواہ کسی کو اچھا لگے یا بُرا لگے۔جو اس کو بُرا مناتا ہے تو قرآن کریم کی آیت کو بدل دے۔مگر جب تک قرآن کریم کی آیت موجود ہے ہم یہی کہتے رہیں گے۔کوئی ان مخالفوں سے تو پوچھے کیا وہ کہتے ہیں کہ ہم ہاریں گے؟ پس ہمارے حزب اللہ کے کہنے میں ہمارا کیا قصور ہے۔اِس سے اُن کے دل جلتے ہیں تو جلتے رہیں۔خدا کے حکم ٹلا نہیں کرتے حزب اللہ بہر حال جیتیں گے۔اگر اس سے اشتعال پیدا ہوتا ہے تو وہ اعلان کر دیں کہ وہ ہاریں گے ، وہ دنیا میں نہیں پھیلیں گے۔اور اگر وہ یہ کہہ بھی دیں تو وہ دیانتدار نہیں کہلا سکتے۔کیونکہ ان کی کتابوں میں لکھا ہے کہ حزب اللہ جیتا کرتا ہے اور وہ اپنے آپ کو حزب اللہ سمجھتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ حالات میں وہ حکام جو ان کی پیٹھ پر ہیں وہ بھی بد دیانت ہیں۔