خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 233

$1953 233 خطبات محمود دعاؤں میں کوتاہی کرتے ہیں۔یہ دن تو ایسے ہیں کہ ان میں اپنے نفس کو بھی بھول جانا چاہیے اور دن رات اللہ تعالیٰ سے یہ دعائیں کرنی چاہئیں کہ وہ جماعت کو ان فتنوں سے بچائے جو آج کل اس کے خلاف پیدا کیے جارہے ہیں۔اب حکومت مسلمانوں کی ہے اور مولوی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ لوگ جو حکومت پر قابض ہیں اُن کے غلام ہیں اور وہ جو چاہیں اُن سے قانون بنوا سکتے ہیں۔پھر پبلک میں سے بھی ایک حصہ ان کے پیچھے چلنے والا موجود ہے۔اس کی وجہ سے حکومت کا کچھ حصہ ڈر بھی جاتا ہے۔اور جب ایسے حالات ہوں جیسے کہا جاتا ہے کہ کوتوال ہمارا دوست ہے اب ڈر کس بات کا۔تو تمہارے لیے حفاظت کا سوائے اس کے اور کونسا ذریعہ باقی رہ جاتا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے آستانہ پر جھکو اور اُس سے مدد اور نصرت طلب کرو۔غرض یہ دن تمہارے لیے ایسے نازک ہیں کہ تمہیں رات اور دن سلسلہ کے بچاؤ کے لیے دعائیں کرنی چاہیں۔صرف خدا ہی کی مدد ہے جو ہمیں بچا سکتی ہے۔ورنہ ہمارے خلاف ایسی ایسی تدابیر کی جارہی ہیں کہ اگر ان تدبیروں میں انہیں کامیابی حاصل ہو جائے تو آج نہیں تو کل وہ سلسلہ کے مٹانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔یہ تو ہم جانتے ہیں کہ خواہ کتنے بڑے ابتلاء آئیں دشمن ہمیں مٹانے میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔مگر اس کی یہ وجہ نہیں کہ اس کے مقابلہ کی ہم میں طاقت ہے۔بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے کھڑا کیا ہے۔اور اگر ہم مرتے ہیں تو صرف ہم ہی نہیں مرتے بلکہ خدا کا نام بھی دنیا سے مٹ جاتا ہے۔پس اگر ہماری خاطر نہیں تو اپنی خاطر خدا تعالیٰ اس بات پر مجبور ہے کہ وہ اس کام کو جاری رکھے جس کام کے لیے اُس نے ہمیں کھڑا کیا ہے۔مگر ہمیں اپنی کوتاہیوں اور غفلتوں کو بھی نہیں بھلانا چاہیے۔خدا تعالیٰ میں طاقت ضرور ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ ہم میں اتنی کمزوریاں ہوں کہ وہ ہمیں چھوڑ کر کسی اور کو اپنے کام کے لیے منتخب کرلے۔پس ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم دعاؤں میں لگے رہیں اور خدا تعالیٰ سے اُس کی مدد چاہیں اور اپنی ذاتی دعاؤں کو بھی ترک کر کے دن رات سلسلہ کی حفاظت اور اُس کی عظمت کے لیے اپنی دعائیں مخصوص کر دیں۔تاکہ اللہ تعالیٰ کی نصرت نازل ہو اور وہ ہماری ناکامیوں کو کامیابیوں میں تبدیل کر دے اور ہمیں حقیقی خوشی اور مسرت عطا فرمائے۔آمین،، - لمصلح 30 اکتوبر 1953ء)