خطبات محمود (جلد 34) — Page 221
$1953 221 خطبات محمود نہیں دیکھا لیکن میں نے ان کو دیکھا ہے وہ منہ جھوٹوں والا نہیں تھا۔مولوی صاحب نے پھر تیسری دفعہ تقریر کی اور آدھ گھنٹہ تک تقریر کرتے رہے۔مگر منشی اروڑے خان صاحب نے پھر یہی کہا کہ مولوی صاحب! آپ کی دلیلیں بالکل بیکار ہیں آپ کتابوں کی طرف جاتے ہیں اور میں اپنی آنکھوں کی طرف جاتا ہوں۔میں نے ان کو دیکھا ہوا ہے اور میں جانتا ہوں کہ وہ منہ جھوٹوں والا ہے نہیں تھا۔اس مشاہدہ کے بعد آپ کی دلیلیں مجھ پر کیا اثر کر سکتی ہیں۔آپ ہزار دلیلیں دیں میرے نزدیک ان کی کوئی قیمت نہیں۔کیونکہ میں نے آپ کو دیکھا ہوا ہے۔اب دیکھو ان کے نزدیک سب سے بڑی دلیل آپ کی صداقت کی یہی تھی کہ انہوں نے آپ کو دیکھ کر پہچان لیا تھا کہ یہ شخص جھوٹا نہیں ہو سکتا۔اب اس یقین کے بعد خواہ کسی کے سامنے لاکھ دلائل رکھ دو وہ اُن کو اٹھا کر پرے پھینک دے گا۔اور یہی کہے گا کہ یہ سب باتیں غلط ہیں۔جس شخص کو میں نے دیکھا ہوا ہے وہ جھوٹا نہیں ہوسکتا۔ہمارے ہاں ایک نو کر تھا جس کا نام پیرا تھا۔در حقیقت وہ بیمار ہو کر قادیان آیا تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کا علاج کیا اور وہ اچھا ہو گیا۔اس بات کا اُس پر ایسا اثر ہوا کہ پھر وہ کی اپنے وطن کی طرف گیا ہی نہیں قادیان میں ہی رہ گیا۔اُن دنوں بٹالہ تک ریل پر سفر کرنا پڑتا تھا۔اس کے بعد تانگوں پر لوگ قادیان جاتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نام جب کوئی پلٹی وغیرہ آتی تو آپ عموماً پیرے کو ہی پلٹی لینے کے لیے بٹالہ بھجوا دیا کرتے تھے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی عادت تھی کہ وہ گاڑی کے اوقات میں عموماً اسٹیشن پر پہنچ جاتے اور جب دیکھتے کہ گاڑی سے کوئی ایسا شخص اُترا ہے جو قادیان جانا چاہتا ہے تو اس سے باتیں شروع کر دیتے اور پھر اسے روکنے کی کوشش کرتے اور کہتے کہ وہاں جا کر کیا لو گے وہ تو محض دھوکا اور فریب ہے۔ایک دن کے اتفاقاً گاڑی سے کوئی احمدی نہ اُترا یا اگر اترا تو ان کے ہاتھ سے نکل گیا۔وہ ادھر اُدھر پھر رہے ہی تھے کہ انہوں نے پیرے کو دیکھ لیا۔چونکہ لوگوں کو روکنے کی عادت پڑی ہوئی تھی انہوں نے پیرے کو ہی بلا لیا اور کہا پیرے ! تم قادیان میں کیوں رہتے ہو؟ مرزا صاحب تو بالکل جھوٹا دعوی کر رہے ہیں۔اس نے کہا مولوی صاحب مجھے تو مذہب کا کچھ پتا نہیں میں تو گنٹھیا سے بیمار تھا۔قادیان آیا اور حضرت مرزا صاحب نے علاج کیا۔جس سے میں اچھا ہو گیا۔اس کے بعد میں اپنے گھر واپس