خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 12

$1953 12 خطبات محمود جنہوں نے دس گیارہ سال کام کیا اور گر گئے۔لیکن ایسے آدمی جو عزم کے وقت سے لے کر موت تک اس پر قائم رہیں بہت کم آئے ہیں۔اس لیے ہمیں اپنے نئے پروگرام شروع کرنے سے پہلے اپنے آپ کو وقت پر بیدار کر لینا چاہیے۔مثلاً اب ہمارا نیا سال شروع ہوا ہے۔ہماری مشکلات پہلے سے زیادہ ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں مشکلات ایک رنگ میں زیادہ تھیں اور ایک رنگ میں کم تھیں۔دس پندرہ آدمی ایسے تھے جو بوجھ برداشت کر کے اپنے کام چھوڑ کر قادیان آگئے تھے تے اور وہ آپ کے کام میں ہاتھ بٹا رہے تھے اور باقی مالی امداد کر لیتے تھے۔اُس وقت مالی امداد کام کی نسبت زیادہ اہمیت رکھتی تھی۔آج مالی امداد کی نسبت کام زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔اُس وقت جماعت اگر خدانخواستہ نا کام ہو جاتی تو خطرہ بہت کم تھا اب خطرہ بہت زیادہ ہے کیونکہ جماعت میں سے ایک دوکا ایسا نکل آنا جن کو دنیا سر پھرے کہتی ہے تم انہیں مستقل مزاج سمجھ لوزیادہ مشکل نہیں۔ایسے لوگ مل جاتے ہیں۔شاہ دولے کے چوہوں کو دیکھ لو کتنے احمق ہوتے ہیں۔لیکن دنیا میں ایسے بیوقوف پائے جاتے ہیں جو شاہ دولے کے چوہے بناتے رہتے ہیں۔پس پہلے زمانہ میں صرف چند سر پھروں کی ضرورت ہوتی تھی اور وہ اکثر مل جاتے تھے۔لیکن اب سینکڑوں اور ہزاروں سر پھروں کی ضرورت ہے اور اتنی ہی تعداد میں سر پھرے ملنے مشکل ہیں۔جماعت کی نسبت کے لحاظ سے اب کارکن زیادہ ہیں پہلے کا رکن کم تھے۔مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے زمانہ میں مبلغ نہیں تھے۔آپ کتابیں لکھتے تھے اور انہیں شائع کر دیتے تھے۔شروع میں آپ کے پاس پر یس تک نہیں تھا۔آپ کی کتابیں عیسائیوں کے پر لیس میں چھپتی رہیں۔بعد میں ایک مسلمان کے پریس میں چھپنے لگیں اور پھر اپنا پر لیں قائم ہوا جو صرف دستی پر لیس تھا۔پس اُس زمانہ میں اس لحاظ سے مشکلات زیادہ تھیں کہ ذرائع کم تھے۔لیکن اس لحاظ سے ی مشکلات کم تھیں کہ کارکن تھوڑے تھے اور تھوڑے کارکنوں سے کام لینا آسان ہوتا ہے۔اس لحاظ سے جماعت اُس زمانہ میں محفوظ تھی۔آج ذرائع بے شک زیادہ ہیں لیکن مشکلات بھی پہلے سے بڑھ گئی ہیں۔آج کام کرنے والوں کی نگرانی کی زیادہ ضرورت ہے۔اگر اس وقت ہمیں کوئی خطر ناک مالی ٹھوکر لگی جیسے اس کے آثار نظر آرہے ہیں تو تم میں سے بہت سے ایسے آدمی ہونگے جواب تو صدقے جاؤں ! واری جاؤں !