خطبات محمود (جلد 34) — Page 217
$1953 217 خطبات محمود پر رحم کرے یہی بات میں لوگوں سے کہتا آرہا ہوں کہ مرزا صاحب قرآن کے خلاف ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکتے۔بہر حال اگر سو نہیں تو پچاس آیتیں تو میں ضرور لے آؤں گا۔آپ نے فرمایا ہماری ہے طرف سے پچاس کی کوئی شرط نہیں ہے۔اگر آپ ایک آیت بھی ایسی لے آئے تو بات صاف ہو جائے گی۔اس پر انہیں خیال پیدا ہوا کہ شاید پچاس آیتیں بھی قرآن کریم میں نہ ہوں اور میری بات غلط ہو جائے اس لیے انہوں نے کہا اچھا! اگر میں ہیں آیتیں بھی ایسی لے آیا جن سے حضرت مسیح زندہ ثابت ہوئے تو کیا آپ اپنے اس عقیدہ کو چھوڑ دیں گے؟ حضرت مسیح موعود نے کی فرمایا۔میاں نظام الدین صاحب! ہم نے کہ تو دیا ہے کہ اگر آپ ایک آیت بھی لے آئے تو ہم یہ عقیدہ چھوڑ دیں گے۔انہوں نے یہ بات سُن کر خیال کیا کہ ممکن ہے میں آیتیں بھی نہ ہوں اور میری بات غلط ہو جائے اس لیے کہنے لگے اچھا نہیں کو بھی چھوڑئیے اگر میں دس آیتیں بھی ایسی لے آؤں تو کیا آپ پھر بھی مان جائیں گے؟ وہ چونکہ بچپن سے یہی سنتے چلے آئے تھے کہ حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں اس لیے انہوں نے خیال کیا کہ دس سے کم تو قرآن کریم میں اس کے متعلق آیتیں نہیں ہوں گی۔آپ نے فرمایا ہماری طرف سے دس کی بھی کوئی شرط نہیں آپ ایک آیت ہی لے آئیں ہم اسی ایک آیت کو ہی تسلیم کر لیں گے۔اس پر وہ خوش خوش قادیان سے بٹالہ پہنچے اور مولوی محمد حسین صاحب کا جا کر پتا کیا۔انہیں معلوم ہوا کہ مولوی صاحب لاہور گئے ہوئے ہیں۔اتفاق کی بات ہے کہ اُنہی دنوں حضرت خلیفہ اول جو جموں کے راجہ کے حکیم تھے۔ایک مہینہ کی چھٹی لے کر لاہور آئے ہوئے تھے اور اپنے داماد کے ہاں ٹھہرے ہوئے تھے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو جب یہ معلوم ہوا کہ آپ لاہور آئے ہوئے ہیں۔تو انہوں نے جھٹ اشتہار دے دیا کہ میرے ساتھ حیات ، وفات مسیح پر بحث کر لی جائے۔حضرت خلیفہ اول نے اس کے جواب میں اشتہار شائع کیا۔پھر اس کا جواب الجواب مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے لکھا اور پھر اُس کا جواب حضرت خلیفہ اول نے دیا۔غرض دس پندرہ دن اسی میں گزر گئے اور کوئی معاملہ طے ہونے میں نہ آیا۔حضرت خلیفہ اول فرماتے تھے کہ اس مسئلہ پر قرآن کریم کی رُو سے بحث ہونی چاہیے اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی یہ کہتے تھے۔کہ اس مسئلہ پر حدیثوں کے لحاظ سے بحث ہونی چاہیے۔جب جھگڑ المبا ہو گیا تو بعض دوستوں نے کہا