خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 208

1953ء 208 خطبات محمود کر لیا اور واپس آگیا۔ تجھے تو اس لیے بھجوایا گیا تھا کہ تو خود جا کر اپنے کانوں سے اُس کی باتیں سنے اور اپنی آنکھوں سے اس کے حالات دیکھے ۔ نہ یہ کہ جو کچھ لوگ کہتے ہیں اُسے سُن کر واپس آجائے ۔ یہ تو ہم یہاں بیٹھے بھی جانتے ہیں کہ لوگ اُس کی مخالف کرتے ہیں اور اُسے بُرا بھلا کہتے ہیں ۔ اب میں خود جاؤں گا اور اس سے مل کر آؤں گا 3 ۔ ۔ صلى الله چنانچہ وہ خود مکہ میں گیا۔ مکہ میں داخل ہوتے ہی رسول کریم ﷺ کے مخالف رشتہ دار الله اُسے مل گئے اور انہوں نے پوچھنا شروع کر دیا کہ کہاں سے آئے ہو اور مکہ میں تمہارا کیا کام ہے؟ اس نے کہا میں فلاں قبیلے سے آیا ہوں اور یہاں مجھے ایک ضروری کام ہے۔ انہیں شبہ پڑ گیا کہ کہیں یہ محمد رسول اللہ ﷺ سے ملنے کے لیے ہی نہ آیا ہو ۔ چنانچہ انہوں نے کہا کہ اچھا ہم تمہیں ایک بات بتائے دیتے ہیں تم یہاں جس کام کے لیے آئے ہو وہ تو بے شک کر ولیکن اتنا ضرور یاد رکھنا کہ یہاں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے ممکن ہے کہ وہ تمہیں مل جائے اور تمہیں ورغلانے کی کوشش کرے ۔ تم اس کے پھندے میں نہ پھنسنا ۔ وہ بڑا چال باز اور فریبی انسان ہے ۔ اور ہم اس کے حالات کو خوب جانتے ہیں ۔ ہمارا وہ قریبی رشتہ دار ہے اور ہم جانتے ہیں کہ وہ ٹھگی کر رہا ہے۔ چنانچہ اس بات کو مزید پختہ بنانے کے لیے کسی نے کہا کہ میں اس کا چچا ہوں ، کسی نے کہا میں اس کی پھوپھی کا بیٹا ہوں ، کسی نے کہا کہ میں اس کا بھائی ہوں ، اور ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس نے محض ایک دکان کھولی ہے اور چاہتا ہے کہ کسی طرح لوگ اس کے پھندے میں پھنس جائیں اور اسے عزت اور شہرت حاصل ہو جائے ۔ اس نے کہا آپ تسلی رکھیے میں ایسا بیوقوف نہیں ہوں کہ اُس کی باتوں میں آجاؤں ۔ جب اس نے مکہ والوں کی مخالفت دیکھ لی اور اس نے سمجھ لیا کہ ان لوگوں کو آپ سے بلا وجہ بیر ہے تو اس نے مناسب سمجھا کہ اس بارہ میں مزید احتیاط کی جائے اور کسی شخص سے کچھ دریافت نہ کیا جائے ۔ صرف اپنے طور پر اس شخص کو تلاش کرنے کی کوشش کی جائے۔ چنانچہ اس نے بازاروں میں اور گلیوں میں گھومنا شروع کیا کہ شاید اُسے رسول کریم ما اور صلى الله کہیں نظر آجائیں مگر آپ اُسے کہیں دکھائی نہ دیئے ۔ مکہ میں اُن دنوں چونکہ شدید مخالفت تھی اس لیے رسول کریم حضرت اُم ہانی کے گھر میں بیٹھ کر تبلیغ کا کام کیا کرتے تھے۔ اس لیے باوجود سارا دن باہر پھرنے کے وہ رسول کریم ﷺ کی تلاش میں کامیاب نہ ہو سکا ۔ شام کے قریب اُسے