خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 199

1953ء 199 خطبات محمود کے پاس سے زمین دیکھنی شروع کی تو وہ حصے اُن کے سامنے آئے جیسے اٹھارہ واٹر کورس والی زمین ہے۔ اور اس کو بھی انہوں نے رڈی قرار دے دیا۔ اس طرح مگر مچھ کے منہ سے یہ لقمہ پچا۔ اس کے بعد گورنمنٹ سے کچھ اور زمین خریدی گئی۔ چنانچہ اب بتیس سوایکٹر محمود آباد میں اور بتیس سو ایکڑ ہی احمد آباد میں ہے۔ یہ ایک نشان تھا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہوا ۔ کہ پہلے اس نے بتایا کہ سندھ میں ایک موقع نکلنے والا ہے جو ہماری جماعت کی ترقی کا ایک ذریعہ ہوگا اور مجھ سے رویا میں دعا کروائی ۔ اور اس کے بعد انگریزوں سے ٹکر ہوئی اور وائسرائے تک نے سفارش کی ۔ مگر اتنی مخالفت کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کے منہ سے نکال کر یہ زمین ہمیں عطا کی اور محمود آباد اور احمد آباد میں ہمیں زمین مل گئی ۔ اس کے بعد ایک نئی صورت یہ نکلی کہ ناصر آباد میں لاہور کے دو زمیندار آئے اور انہوں نے وہ زمین خرید لی ۔ مگر اس کے بعد ان دونوں میں لڑائی ہو گئی اور اس پر ان دونوں میں سے ایک شخص قادیان میں میرے پاس آیا اور اس نے کہا کہ میں اپنا حصہ فروخت کرنا چاہتا ہوں ۔ چنانچہ میں نے اُس سے زمین خرید لی ۔ دوسرے حصہ دار نے اپنا حق گورنمنٹ کو واپس کر دیا کہ میں اس زمین کی قیمت نہیں دے سکتا۔ جب اس نے گورنمنٹ کو یہ زمین واپس کی تو اتفاقاً اُس وقت ہمارا ایک عزیز وہاں موجود تھا۔ اس نے فوراً یہ زمین خرید لی ۔ جس سے میں نے بوجہ مقاربت اور ہمسائیکت یہ زمین خود لے لی اور اس طرح ناصر آباد کی آبادی کی صورت پیدا ہوئی۔ محمد آباد کی زمین اس طرح ملی کہ یہ حصہ کسی نے شروع میں پانچ سال کے مقاطعہ پر لیا ہوا تھا۔ تحریک نے اس مقاطعہ کے دوران میں ہی اس زمین کی قیمت داخل کر دی اور کہا کہ جب یہ مقاطعہ ختم ہوگا تو پھر یہ زمین ہماری ہوگی ۔ چنانچہ مقاطعہ ختم ہونے پر محمد آباد کی زمین تحریک کومل گئی۔ اس طرح صدر انجمن احمد یہ ، تحریک جدید اور بعض دوسرے احمدیوں کی ایک بہت بڑی جائیدا دسندھ میں بن گئی ۔ اُس وقت یہ حالت تھی کہ جب ہم نے یہ زمین لی تو ہم نے اپنی جماعت کے دوستوں سے بار بار کہا کہ یہ زمین خرید لو مگر اس وقت ایک ایکڑ کی درخواست بھی کسی کی طرف سے نہ آئی ۔