خطبات محمود (جلد 34) — Page 200
$1953 200 خطبات محمود اُس وقت صرف میں نے چھ سو ایکڑ زمین خریدی تھی۔مگر اتفاق ایسا ہوا کہ شروع میں گھانا ہونا ہے شروع ہوا۔اس پر ایک بیوہ جو حصہ دار تھی اس نے کہا کہ میں اس گھاٹے کو برداشت نہیں کر سکتی اور اس نے اپنی اڑھائی سو ایکڑ زمین میرے پاس فروخت کر دی۔اس کے بعد ایک اور ساتھی گھبرایا اور اس نے بھی اپنا اڑھائی سوایکڑ میرے پاس فروخت کر دیا۔غرض مختلف حصہ داروں نے گھبرا گھبرا کر اپنی زمین بیچنا شروع کر دی۔اس طرح محمود آباد میں جونئی زمین خریدی گئی تھی وہ بھی اور کچھ پرانی زمین بھی میرے پاس آگئی۔گویا جماعت کی بے توجہی کے باوجود اور گورنمنٹ کی مخالفت کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دئیے کہ یہاں ایک بہت بڑی جائیداد ہماری جماعت کی قائم ہوگئی۔اس دوران میں نواب عبداللہ خان صاحب جو پہلے اس بات کی تائید میں تھے کہ صرف مقاطعہ پر زمین لینی چاہیے خریدنی نہیں چاہیے انہیں چونکہ ادھر بار بار آنا پڑا اور افسروں سے اُن کے تعلقات ہو گئے اِس لیے گورنمنٹ نے انہیں نواب شاہ میں مقاطعہ پر کچھ زمین دے دی۔نصرت آباد کی زمین اُس وقت کسی اور کے پاس مقاطعہ پر تھی۔وہ غریب خاندان میں سے تھا۔جب روپیہ آیا تو اس نے بے تحاشا اُس روپیہ کولکھا نا شروع کر دیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ مقروض کی ہو گیا اور گورنمنٹ کو قسطیں ادا نہ کر سکا۔اس پر اُس نے چاہا کہ کسی اور سے اس زمین کا تبادلہ کرے۔نواب عبداللہ خان صاحب کو جب یہ معلوم ہوا تو وہ اس سودے میں کود پڑے کیونکہ انہیں یہ فائدہ نظر آیا کہ اس طرح ہم سب احمدی ایک جگہ اکٹھے رہیں گے۔چنانچہ اس نے نواب شاہ والی زمین لے لی اور میاں عبداللہ خان صاحب نے نصرت آبا دوالی زمین لے لی۔اس عرصہ میں ڈینی سر نے یہاں ایک فیکٹری بنائی۔ہم نے انہیں کہا کہ ہمیں بھی اسی فیکٹری میں شامل کر لو۔یہ فیکٹری کپاس بیلنے والی تھی۔انہوں نے ایسی شرطیں پیش کر دیں جن کے نتیجہ میں انہیں تو ہم سے فائدہ پہنچ سکتا تھا مگر ہمیں کوئی فائدہ نہیں تھا۔لیکن ہم نے کہا بہت اچھا ہمارا حصہ ڈال لو۔چنانچہ اس پر ہمارے دوست اُن سے ملے اور وہ ہمارے دوستوں سے ملے۔انہوں نے ہمیں اپنے پاس بلوایا اور ہم نے اُن کی دعوت کی اور اس موضوع پر گفتگو شروع ہوئی۔انہوں نے کہا کہ آپ ہمیں دولاکھ روپیہ دے دیں۔اس کے بعد جو آمد ہو اُس میں سے چھ آنے آپ کے