خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 161

1953ء 161 خطبات محمود لگائی ہے میں اس سے زیادہ نہیں لوں گا۔ 1۔ تو دیکھو یہ کتنی شاندار لڑائی تھی ۔ ایک کہتا ہے کہ میں اس گھوڑے کے دو ہزار روپے لوں گا لیکن دوسرا کہتا ہے نہیں میں اس کے تین ہزار روپے دوں گا۔ لیکن تمہارا یہ حال ہے کہ دو آنے کی چیز کی قیمت تین آنے مقرر کی جائے تو پھر بھی اُسے ظلم کہتے ہو۔ اگر تم مہاجر ہو تو کیا ہوا ۔ کیا ا دوسرے لوگ مہاجر نہیں ؟ بسا اوقات ت دوسرا دوسرا آدمی تم سے زیادہ مصیبت میں ہوتا ہے۔ لیکن تمہاری یہ حالت ہے کہ لوٹ کھسوٹ کی وجہ سے تم دوسروں سے زیادہ کمارہے ہو ۔ میں جانتا ہوں کہ یہاں کے بعض دکانداروں کی حالت قادیان سے اچھی ہے ۔ پس میں دکانداروں سے کہتا ہوں کہ تم یہ سب بے ایمانیاں ترک کر دو ۔ اور دوسروں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ تم یہ بے ایمانیاں ترک کراؤ۔ برف ایسی چیز ہے کہ اگر تم میں حسن ہوتی تو دکاندار دو دن میں سیدھے ہو جاتے ۔ آخر وہ علاقے بھی ہیں جہاں برف نہیں ملتی ۔ اگر تم ایک دن اکٹھے ہو کر یہ فیصلے کر لیتے کہ ہم برف نہیں لیں گے تو جود کا ندا ر اب دو آنے فی سیر بیچنے کو بھی ظلم کہہ رہے ہیں وہ تمہارے سامنے ہاتھ جوڑتے اور کہتے تم ڈیڑھ آنہ فی سیر لے لو۔ ہمیں ایک غیر مبائع دوست نے کہا ہے کہ اگر مجھے دکان کی اجازت دی جائے تو میں پانچ پیسے فی سیر کے حساب سے برف بیچوں گا۔ میں نے کہا یہ لوگ مہاجر ہیں پہلے انہیں سمجھا لو۔ اگر انہوں نے اپنی اصلاح نہ کی تو ہم مجبور ہو کر ایسا انتظام کر لیں گے پھر ہم دیکھیں گے کہ برف پانچ پیسے فی سیر بکتی ہے کہ نہیں ۔ جب تک تم اپنے نفس کی اصلاح نہیں کر لیتے ، جب تک دیکھنے والا یہ نہ کہے کہ ان لوگوں کے ایمان میں اور ہمارے ایمان میں فرق ہے، جب تک وہ یہ نہ کہے کہ خدا تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لاکر ان لوگوں کے عمل میں بھی نیکی پیدا ہو گئی ہے، جب تک وہ یہ نہ کہے کہ قرآن کریم کو ماننے کے نتیجہ میں ان لوگوں کے کاروبار میں بھی دیانت آگئی ہے۔ اُس وقت تک تمہارا ایمان اور تمہارے عقائد چیتھڑوں اور کاغذ کے ٹکڑوں کے برابر بھی نہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بے کار چیزیں ہیں ۔ المصلح )اصل 12 جولائی 1953ء 1: المعجم الكبير حافظ ابو القاسم سليمان بن احمد الطبرانی جلد 2 صفحہ 334 ، 335۔ حدیث نمبر 2395 - دار الاحياء التراث العربي۔