خطبات محمود (جلد 34) — Page 143
1953ء 143 خطبات محمود سامنے آکر کھڑے ہو گئے آپ میرے آگے سے ہٹ جائیں۔ چنانچہ سکندر سورج کے آگے سے ہٹ گیا۔ تو دیکھو! اس فلسفی نے اپنی خواہش کا اظہار کیا تو یہی کیا کہ میں دھوپ سینک رہا ہوں تم آگے سے ہٹ جاؤ ۔ حالانکہ وہ بزرگ نہیں تھا، وہ کوئی خدا رسیدہ نہیں تھا ۔ لیکن وہ دنیا چھوڑ چکا تھا۔ وہ سوچنے میں لگا ہوا تھا اور دوسری باتوں کے لیے اُس کے پاس کوئی وقت نہیں تھا۔ غرض چاہے کوئی فلسفی سائنس سے متعلق امور پر غور کر رہا ہو۔ یا حساب میں غور کر رہا ہو عیاشی کی زندگی سے وہ منہ موڑ لے گا۔ اسی طرح اقلیدس 5 کے متعلق آتا ہے کہ وہ کسی مسئلہ کے متعلق سوچ رہا تھا لیکن پوری تھا بحث اُس کے ذہن میں نہیں آتی تھی۔ ایک دفعہ وہ نہا رہا تھا کہ سوچتے سوچتے وہ بات حل ہو گئی اور وہ اسی محویت میں ننگا ہی باہر نکل آیا۔ اور کہنے لگا میں نے پالیا میں نے حل کر لیا ۔ لوگوں نے کہا تمہیں کیا ہو گیا تم تو ننگے ہی باہر پھر رہے ہو؟ اُس نے کہا مجھے تو اس کا خیال ہی نہیں رہا۔ میں تو اسی کہا تو خوشی میں کہ میرا مسئلہ حل ہو گیا باہر دوڑ پڑا 6۔ اب دیکھوا قلیدس قرآن کریم پر غور نہیں کر رہا تھا ۔ وہ تو رات اور انجیل پر غور نہیں کر رہا تھا۔ وہ صرف ایک دنیوی چیز پر غور کر رہا تھا لیکن اسی غور میں وہ دنیا وَ مَا فِيهَا سے غافل ہو گیا ۔ غور و فکر کرنے کا یہ لازمی نتیجہ ہوتا ہے کہ انسان محو ہو جاتا ہے۔ بعض لوگ تو اس قدر محو ہو جاتے ہیں کہ اُنہیں اپنے قریب کے ماحول کا بھی پتا نہیں لگتا۔ پس تم غور کی عادت ڈالو اور جو واقعہ تمہاری نظر کے سامنے آئے یا تمہاری قوم اور ملک یا سے گزرے اُس پر غور کرو۔ عیسائی اس بات پر غور کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے بعد خلافت کے بارہ میں مسلمانوں میں کیوں جھگڑا پیدا ہو گیا لیکن تم اس بات پر غور نہیں کرتے ۔ حالانکہ اُن کو اسلام سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ تم عیسائیوں کی کتابیں پڑھو تو تمہاری آنکھیں کھل جائیں ۔ انہوں نے غور کر کے اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ اسلام میں تنزل کیوں پیدا ہوا۔ لیکن تم نے اس پر کبھی غور نہیں کیا کہ کبھی وہ زمانہ تھا کہ تم دنیا کے فاتح تھے لیکن اب تم لکھے ہو گئے ہو۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ تمہارے عالم بھی جاہل ہیں اور جاہل بھی جاہل ہیں ۔ تمہاری حسن ماری گئی ہے ، تمہاری اُمنگیں ماری گئی ہیں۔ آخر تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم عضو معطل ہو گئے ہو؟ اس کی وجہ یہی ہے کہ تم سوچتے نہیں ہو۔ لیکن عیسائی اس بات پر غور کر رہے ہیں؟ جس کی غرض یہ ہے کہ تم مرو اور تمہارا نام مٹ جائے ۔ وہ تو غور کر رہے ہیں اور تمہیں اس بات پر غور کرنے کا احساس نہیں ۔ یہ کتنے افسوس کی بات ہے ۔ حالانکہ دماغ اُن کو بھی ملا ہے اور تمہیں بھی ۔ وہ امریکہ اور انگلستان میں بیٹھے ان باتوں