خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 142

$1953 142 خطبات محمود نے سوچا نہیں ہوتا۔تم نے اپنی آنکھیں نہیں کھولی ہوتیں۔پس تم ہر بات پر سوچنے کی عادت ڈالو۔غوری کرنے سے ہی لوگ فلاسفر اور صوفی بن جاتے ہیں۔صوفی اور فلاسفر میں صرف یہ فرق ہے کہ صوفی، مذہب اور خدا تعالیٰ سے تعلق رکھنے والی باتوں کے متعلق غور کرتا ہے اور فلاسفر دنیا کی باتوں میں غور وفکر کرتا ہے۔ہوتے دونوں ایک ہی ہیں۔صوفی خدا تعالیٰ کی باتوں ، اُس کے قانون ، سنت ، احکام، تقدیروں اور اس کے کلام پر غور کرتا ہے اور فلاسفر دنیا پر غور کرتا ہے۔جب کوئی شخص پیدائش عالم پر غور کرتا ہے اور اس سے نتیجہ نکالتا ہے تو وہ فلاسفر کہلاتا ہے۔اور جب کوئی شخص شریعت اور قانون شریعت پر غور کرتا ہے تو وہ صوفی کہلاتا ہے۔لوگوں نے یونہی صوفیاء کے متعلق بیہودہ باتیں بنالی ہیں۔اور کہتے ہیں صوفی وہ ہوتا ہے جو صوف کا کپڑا پہنے۔تم اس کے معنے صوف کا کپڑا پہننے والے کے لے لو یا دل صاف رکھنے والے کے۔بہر حال جو صوف کے کپڑے پہن لیتا ہے وہ بھی دنیا سے الگ ہو جاتا ہے اور صرف خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔پس تم کوئی معنے لے لو۔اصل بات یہی ہے کہ جو دنیا سے قطع تعلق کر کے خدا تعالیٰ کی باتوں پر غور کرنے لگ جائے وہ صوفی ہے۔اور جو شخص قانونِ قدرت ؟ غور کرے وہ فلاسفر ہے۔فلاسفر کی زندگی بھی ایسی ہوتی ہے کہ وہ دنیا کی عیاشی میں بہت کم حصہ لیتا ہے۔حالانکہ فلاسفروں میں سے کئی ایسے بھی تھے جو خدا تعالیٰ کی ہستی کے منکر تھے۔اور بعض ایسے بھی تھے جو کہتے تھے کہ اس دنیا سے جتنا بھی فائدہ اٹھایا جائے کم ہے۔لیکن وہ صرف ایک طرف لگ جاتے تھے اور باقی چیزوں سے منہ موڑ لیتے تھے۔آج ہی میں اپنی ایک بچی کو ایک قصہ سنا رہا تھا کہ بچپن میں ہم پڑھا کرتے تھے کہ سکندر ایک جگہ دورہ کرتے ہوئے پہنچا۔وہاں اُسے ایک فلسفی دیو جانس کلبی 4 کا پتا لگا۔اس کا جی چاہا کہ وہ اُس کی زیارت کرے۔چنانچہ وہ اس فلسفی کے پاس گیا۔وہ دھوپ سینک رہا تھا۔سکندر نے خیال کیا کہ فلسفی اس سے خود بات کرے گا اور مجھ سے جو کچھ مانگے گا میں اسے دوں گا۔لیکن وہ فلسفی چپ کر کے بیٹھا رہا اور سکندر سے اُس نے کوئی بات نہ کی۔تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد سکندر نے خیال کیا کہ وہ خود کوئی بات شروع کرے۔چنانچہ اس نے فلسفی کو مخاطب کر کے کہا میں نے آپ کے متعلق سا تھا اس لیے آپ سے ملنے آ گیا۔میری خواہش ہے کہ آپ مجھ سے کچھ مانگیں تو میں آپ کی ضرورت کو پورا کروں۔اس فلسفی نے کہا اور تو میری کوئی خواہش نہیں صرف اتنی خواہش ہے کہ میں دھوپ سینک رہا تھا آپ سورج کے