خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 141

$1953 141 خطبات محمود آٹھ دفعہ قرآن کریم پڑھ جائے۔اب جتنا قرآن کریم رمضان میں تم پڑھ لیتے ہونو لڈ کے نے ساری عمر میں نہیں پڑھا ہوگا۔لیکن وہ اس نتیجہ پر پہنچ گیا کہ جو بات اُس نے پہلے لکھی تھی وہ غلط تھی۔قرآن کریم کی میں زبر دست ترتیب موجود ہے۔اور پھر اُس نے اپنے اس دعوی کے دلائل بھی دیئے ہیں کہ میں نے جو ی نتیجہ پہلے نکالا تھاوہ غلط تھا۔میں نے سمجھا تھا کہ بڑی سورتیں پہلے رکھ دی گئی ہیں اور چھوٹی سورتیں بعد میں۔لیکن اب مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ کئی بڑی سورتیں بعد میں رکھی گئی ہیں اور چھوٹی سورتیں پہلے آگئی ہیں۔اور اس کے علاوہ اُس نے اور بھی کئی نتائج نکالے ہیں۔پس تم اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو۔اگر تم نے اپنے نفس کے اندر اور اس دنیا کے اندر تبدیلی پیدا کرنی ہے تو تم اپنے دماغ میں بھی تبدیلی پیدا کرو تم سوچنے کی عادت ڈالو۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے کا فروں کی یہ علامت بیان فرمائی ہے کہ وہ واقعات سے گزر جاتے ہیں اور انہیں ان کا احساس تک نہیں ہوتا 3 تم بھی واقعات سے یونہی گزر جاتے ہو اور ان سے سبق حاصل نہیں کرتے۔یہی واقعات جو پچھلے دنوں ہوئے ہیں۔اگر اُن کے متعلق سوال کیا جائے تو تم میں سے سو کے سو آدمی کوئی جواب نہیں دے سکیں گے۔حالانکہ ان واقعات سے کئی نتائج نکلتے ہیں۔تم اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکو گے کہ خدا تعالیٰ کا فضل ہوا کہ ہماری جماعت محفوظ رہی۔لیکن ان واقعات کی کے کیا کیا اسباب تھے ؟ کس کس طرح آگ لگائی گئی تھی ؟ کس وجہ سے ان لوگوں میں تنظیم پیدا ہوگئی تھی؟ کس وجہ سے یہ زہر سارے ملک میں پھیل چکا تھا؟ پھر وہ کون کونسے ذرائع تھے جن کی وجہ سے ی یہ فتنہ ختم ہوگیا؟ اور اب کن صورتوں میں ان واقعات کے آئندہ دوبارہ پیدا ہونے کا احتمال ہے؟ یہ ساری باتیں ان واقعات سے نکلتی ہیں۔لیکن تم نے ان پر غور نہیں کیا۔اگر یہ واقعات دوبارہ رونما ہوئے تو تم کہو گے ہمیں تو ان کا پتا نہیں تھا۔حالانکہ تمہیں ان کا پتا ہونا چاہیے تھا۔تم پر پانچ چھ دفعہ یہ واقعات گزرچکے ہیں۔تمہاری مثال تو شیخ چلی کی سی ہے جس کے متعلق مشہور ہے کہ وہ ایک دفعہ جس ٹہنی پر بیٹھا تھا اُسے ہی کاٹنے لگ گیا۔اُس کے پاس سے کسی گزرنے والے نے کہا کہ تم گر جاؤ گے۔تم اُسی ٹہنی کو کاٹ رہے ہو جس پر تم بیٹھے ہو شیخ چلی نے کہا بڑا پیغمبر آیا ہے تو۔تجھے کیسے پتا لگا کہ میں گر جاؤں گا۔حالانکہ یہ تو ی ایک بچہ بھی جانتا ہے کہ جس ٹہنی پر کوئی بیٹھا ہوا گر اُسے کاٹ دیا جائے تو وہ نیچے گر جائے گا۔تمہاری حالت بھی وہی ہے۔جو شیخ چلی کی تھی۔تمہارے سامنے سے ایک چیز گزرتی ہے اور تم کہتے ہو اوہو! یہ کیا ہو گیا۔حالانکہ تمہیں اُس کا پہلے سے علم ہوتا ہے۔فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ تم میں غور کرنے کی عادت نہیں ہوتی۔تم