خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 139

$1953 139 خطبات محمود معاملات پر غور زیادہ فرمایا کرتے تھے اور باتیں کم کیا کرتے تھے۔جس طرح بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ تیزی سے باتیں کرتے چلے جاتے ہیں۔آپ کا طریق ایسا نہیں تھا۔لیکن آجکل یہ رواج پڑ گیا ہے۔کہ لوگ باتیں زیادہ کرتے ہیں اور سوچتے کم ہیں۔حالانکہ دن اور قومی ترقی وابستہ ہے سوچنے کے ساتھ۔ہمیں بعض دفعہ یورپین لوگوں کی کتابیں پڑھ کر شرم آ جاتی ہے۔وہ لوگ اپنی کتابوں میں جو کچھ ہے بیان کرتے ہیں وہ ایسا علم نہیں ہوتا جو سائنس کے اس گہرے مطالعہ کا نتیجہ ہو جو اُن میں پایا جاتا ہے لیکن ہم میں نہیں پایا جاتا۔وہ جو کچھ بیان کرتے ہیں وہ ایسا علم نہیں ہوتا جو جغرافیہ کے اُس گہرے مطالعہ کا نتیجہ ہو جو اُن میں پایا جاتا ہے لیکن ہم میں نہیں پایا جاتا۔وہ ایسا علم نہیں ہوتا جو حساب کے ایسے گہرے مطالعہ کا نتیجہ ہو جو اُن میں پایا جاتا ہے لیکن ہم میں نہیں پایا جاتا۔وہ ایسا علم نہیں ہوتا جو تاریخ کے اس گہرے مطالعہ کا نتیجہ ہو جوان میں پایا جاتا ہے لیکن ہم میں نہیں پایا جاتا۔بلکہ جن باتوں سے انہوں نے استنباط کیا ہوتا ہے ہے چاہے وہ جغرافیہ سے متعلق ہوں یا تاریخ سے وہ سائنس سے متعلق ہوں یا حساب سے اُن کا علمی ہمارے پاس بھی موجود ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ وہ لوگ ہر بات پر فکر کرتے ہیں لیکن ہمارے آدمی ان کی کی پروا نہیں کرتے۔وہ گہرے مطالعہ کی وجہ سے ایسے نتائج نکال لیتے ہیں جن نتائج تک ہمارے لوگوں کے ذہن نہیں پہنچتے۔مجھے شرم آجاتی ہے یہ دیکھ کر کہ عربی زبان کی باریکیوں ، اس کے محاوروں اور اس کی بناوٹ کے متعلق وہ لوگ ایسی باتیں لکھ جاتے ہیں جو ہمارے علماء اور ادیبوں نے نہیں لکھیں۔وہ قرآن کریم کی آیات میں جو الفاظ استعمال ہوتے ہیں ان کی ایسی تحقیق بیان کر جاتے ہیں جو ہمارے مفسرین اور علماء نے بیان نہیں کی ہوتی۔مجھے حیرت آتی ہے کہ وہ لوگ دشمن ہوتے ہوئے بھی ان باتوں تک پہنچ گئے اور ہمارے لوگ دوست ہونے کے باوجود ان تک نہیں پہنچتے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم لوگ غور نہیں ہے کرتے۔وہ ہر بات پر غور کرتے ہیں اور پھر اس سے کوئی نہ کوئی نتیجہ اخذ کرتے ہیں۔صبح کی نماز کے بعد مجھے سونے کی عادت ہے۔اُس وقت چاروں طرف سے قرآن کریم یا کی تلاوت کی آوازیں میرے کان میں آتی ہیں تو میرا دل یہ دیکھ کر خوش ہوتا ہے کہ لوگ قرآن کریم کی تی کثرت سے تلاوت کرتے ہیں۔لیکن ساتھ ہی یہ دیکھ کر کوفت بھی ہوتی ہے کہ یہ لوگ طوطے کی طرح پڑھ رہے ہیں اور قرآن کریم کے معانی پر غور نہیں کرتے۔اس لیے ان پر علوم قرآنیہ آشکار نہیں ہوتے۔لیکن ایک عیسائی سال میں قرآن کریم کا ایک صفحہ ایک دفعہ دیکھتا ہے لیکن اس طرح دیکھتا ہے کہ اس