خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 4

$1953 4 خطبات محمود گزار و اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو۔ہم یقیناً جانتے ہیں کہ ہمارے سب کام خدا تعالیٰ ہی کرتا ہے۔وہ تغیر جو ہمیں نظر آتا ہے اس میں خدا تعالیٰ کا ہاتھ نمایاں نظر آتا ہے۔خدا تعالیٰ کے اس ہاتھ کو دیکھتے ہوئے تر ڈو اور رشک کرنا تھی نہایت خطر ناک بیماری کی علامت ہے۔جب سورج نکلا ہوا ہو تو صرف وہی لوگ اسے نہیں دیکھتے تھے جن کی بینائی جاتی رہی ہو۔اسی طرح عقلمند انسان خدا تعالیٰ کے ہاتھ کو دیکھنے کے بعد شک اور تر ڈر میں نہیں رہتا۔یہی وہ امتیاز ہے جو ہماری جماعت اور دوسری قوموں میں پایا جاتا ہے۔ہماری جماعت نے خدا تعالیٰ کے تازہ تازہ نشانات دیکھے ہیں۔لیکن دوسری قوموں کو خدا تعالیٰ کے نشانات دیکھے بہت دیر ہو چکی ہے۔وہ ظاہری طور پر تو خدا تعالیٰ کی قدرت کی قائل ہیں لیکن دل سے اس کی قائل نہیں۔وہ دل میں یہ بجھتی ہیں کہ اگر چہ خدا تعالیٰ کا وجود ہے لیکن اب وہ بریکار بیٹھا ہے اسے کسی کام میں دخل حاصل نہیں۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ نہ وہ پہلے بیکار تھا اور نہ اب بیکار ہے۔وہ کبھی قدرت عامہ سے کام چلاتا ہے اور کبھی قدرت خاصہ سے کام لیتا ہے۔مثلاً نالے ہیں دریا ہیں۔ان میں ہر وقت پانی بہتا رہتا ہے لیکن ان دریاؤں اور نالوں کی وجہ سے یہ نہیں ہوتا کہ بارش نہ ہو۔بارش بھی ہوتی ہے اور نالے اور دریا بھی بہتے ہیں۔دریاؤں اور نالوں میں پانی چلتا ہے تو یہ اس کی قدرت عامہ کا اظہار ہوتا ہے۔اور بارش ہوتی ہے تو یہ اُس کی قدرتِ خاصہ کی وجہ سے ہوتا ہے۔اور ظاہر ہے کہ بارش کا فیضان عام ہے دریاؤں کا فیضان عام نہیں۔بارش ہر ذرہ ذرہ کو سیراب کر دیتی ہے دریاؤں کے ذریعہ سے ہر ذرہ ذرہ سیراب نہیں ہوتا۔لیکن یہ ضرور ہے کہ بارش کبھی کبھی آتی ہے اور ا دریا اور نالے ہر وقت بہتے رہتے ہیں۔دوسری چیز جو نہایت ضروری ہے وہ یہ ہے کہ ہم نے اس سال جماعت کے مختلف گروہوں کی اقتصادی حالت کو درست کرنے کے لیے غور و فکر کرنا ہے۔میں نے پچھلے سال بھی ہے اقتصادی حالت کو درست کرنے کے متعلق ہدایات دی تھیں۔لیکن افسوس ہے کہ نظارت امور عامہ نے اس بارہ میں کوئی قدم نہیں اٹھایا۔میں نے خطبات جمعہ میں اس بات کا ذکر کیا تھا۔لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ناظر صاحب امور عامہ یا تو نمازوں میں نہیں آتے اور اگر آتے ہیں تو خطبات میں سوئے رہتے ہیں۔کیونکہ اگر وہ مسجد میں آتے اور خطبات سنتے تو وہ اس بارہ میں کوئی نہ کوئی