خطبات محمود (جلد 34) — Page 5
$1953 5 خطبات محمود قدم تو ضرور اٹھاتے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یا تو نماز جمعہ اُن کے لیے ضروری نہیں اور یا وہ مسجد میں آتے ہیں تو ان پر نیند غالب آجاتی ہے اور خطیب کے خطبہ کا انہیں پتا نہیں لگتا۔یونہی مسجد میں چلے آئے اور واپس چلے گئے۔لیکن اس دفعہ انہیں سونے نہیں دیا جائے گا ، ان کی نیند کو دور کرنے کے جتنے بھی علاج ہیں وہ کئے جائیں گے۔انہیں چاہیے تھا کہ وہ فوراً جماعتوں کو منظم کرتے ، جماعت کے احباب سے تبادلہ خیالات کرتے اور کمیٹیاں بنانے کا کام کرتے لیکن افسوس کہ انہوں نے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کی۔انہیں فورا کام شروع کر دینا چاہیے۔وہ یہ خیال نہ کر لیں کہ ایک ماہ تک جلسہ کی تھکان دور ہوگی ، ایک ماہ سوچنے میں لگ جائے گا، ایک ماہ کسی نتیجہ پر پہنچنے میں لگ جائے گا ، ایک ماہ جماعتوں کو لکھنے میں لگ جائے گا ، ایک ماہ کوئی جواب آنے میں لگ جائے گا ، اس کے بعد کمیٹیوں کے متعلق غور کرنے میں ایک ماہ لگ جائے گا۔چھ سات ماہ گزرنے کے بعد وہ یہ خیال کرلیں گے کہ اب تو سال ختم ہو گیا ہے اب اگلے سال کام کریں گے۔اب تک ان کا یہی طریق رہا ہے۔لیکن یہ طریق نہایت ناجائز ہے اور ایسا کرنا جماعت سے غداری کرنا ہے۔کوئی مومن ایسا کی کام نہیں کر سکتا۔اگر ایسا ہو تو کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔پس ناظر صاحب امور عامہ ابھی سے کام کی شروع کر دیں۔ان کا فرض تھا کہ وہ یکم جنوری سے کام شروع کر دیتے لیکن انہوں نے ابھی تک کام شروع نہیں کیا۔وہ اس خطبہ کے بعد یہ کام فوراً شروع کر دیں۔ہم نے اس اعلان کے مطابق اس سال زمینداروں میں تنظیم پیدا کرنی اور ان کی اقتصادی حالت کو درست کرنا ہے۔ہم نے اس کی سال عام پیشہ وروں یعنی لوہار، نجار ، معمار وغیرہ میں تنظیم پیدا کرنی اور ان کی اقتصادی حالت کی کو درست کرنا ہے۔ہم نے اس سال فنکار پیشہ وروں یعنی ڈاکٹروں، وکیلوں وغیرہ کی تنظیم کرنی اور ان کی اقتصادی حالت کو درست کرنا ہے۔ہم نے اس سال تاجروں کی تنظیم کرنی اور ان کی اقتصادی حالت کو درست کرنے کے متعلق غور و فکر کرنا ہے۔ہم نے اس سال طالب علموں کی تنظیم کرنی ہے۔گویا اس سال ہم نے ان پانچوں گروہوں کو زیادہ سے زیادہ ترقی دینی ہے، ان کے کام میں زیادہ سے زیادہ وسعت پیدا کرنی ہے اور انہیں جماعتی رنگ میں مفید بنانے کے متعلق تجاویز سوچنی ہیں اور ان پر عمل کرنا ہے۔تیسری بات جس پر ہم نے اس سال زور دینا ہے وہ تعلق باللہ ہے۔اور تعلق باللہ تربیت صحیحہ