خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 134

1953ء 134 خطبات محمود تم لوگوں نے ذکر الہی ترک کر دیا تھا حضرت مرزا صاحب نے ذکر الہی شروع کروا دیا تم لوگوں نے سچ بولنا ترک کر دیا تھا حضرت مرزا صاحب نے ہم سے سچ بلوانا شروع کروا دیا تم لوگوں میں رشوت خوری ، جنبه داری ظلم و تعدی اور دوسروں کا مال کھانے کی بد عادات پائی جاتی تھیں حضرت مرزا صاحب نے ہم سے یہ عادات پچھڑ وادیں تو اس کے جواب میں کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ مرزا صاحب نے کیا تغیر پیدا کیا ہے۔ مگر افسوس ہے کہ ہماری جماعت کی اکثریت نے ابھی اپنے اندر ایسا تغیر پیدا نہیں کیا کہ ہم غیروں کے سامنے یہ دعوی کر سکیں کہ ہماری عملی حالت اُن سے بہتر ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جہاں تک ارکانِ اسلام پر عمل کرنے کا سوال ہے ہماری جماعت زیادہ تعبید کے ساتھ ان کو بجالاتی ہے۔ مسلمان ارکانِ اسلام کی بجا آوری میں بھی بہت کمزور ہیں ۔ مثلاً روزہ کو ہی لے لو ۔ ہندوستان میں روزہ تو رکھا جاتا ہے مگر عموماً بناوٹی ہوتا ہے۔ یعنی کوئی بچے سے روزہ رکھوا رہا ہے تو کوئی سفر میں بھی روزہ رکھ رہا ہے۔ حالانکہ نہ بچوں پر روزہ فرض ہے اور نہ سفر میں روزہ فرض ہے۔ ایسے ہندوستانی مسلمان بھی ہیں جو روزہ نہیں رکھتے یا بیکار روزہ رکھتے ہیں ۔ یعنی روزہ رکھنے کے باوجود گالی گلوچ ، جھوٹ اور دھوکا و فریب کو ترک نہیں کرتے ۔ پھر حج کے لیے بھی اکثر ایسے لوگ جاتے ہیں ۔ جن پر حج فرض نہیں ہوتا ۔ مثلاً بھک منگے چلے جاتے ہیں امراء نہیں جاتے ۔ مگر یہی چیز ہمیں اپنی جماعت میں بھی نظر آتی ہے ۔ کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جنہیں حج کرنے کی توفیق ہے لیکن وہ حج کے لیے نہیں جاتے ۔ اگر تمہارے نزدیک کسی کے پاس دس کروڑ روپیہ ہو تب اُس پر حج فرض ہوتا ہے تو دس کروڑ روپے رکھنے والا تو یقیناً احمدیوں میں کوئی نہیں ۔ لیکن اگر توفیق سے مراد ہزار دو ہزار روپیہ ہے تو ایسے سینکڑوں لوگ ہماری جماعت میں موجود ہیں ۔ ابھی ربوہ بن رہا ہے یہاں چھبیس چھبیس سو روپے میں ایک کنال زمین یکی ہے۔ بعض لوگ تین تین ہزار روپے فی کنال بھی لے رہے ہیں ۔ پھر جن لوگوں نے اس قیمت پر زمین خریدی ہے انہوں نے مکان بھی بنوانا ہے۔ اس قدر روپیہ رکھنے والا احمدی یقیناً حج کر سکتا ہے۔ لیکن کتنے ہیں جو حج کے لیے جاتے ہیں؟ مجھے تو حج کے معاملہ میں احمدیوں اور غیر احمد یوں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا ۔ جیسا دوسروں کا حال ہے ویسا ہی ہمارا حال ہے ۔ لیکن باقی چیزوں میں احمدی نسبتاً اچھے ہیں ۔ لیکن مقابلہ میں نسبتاً اچھا ہونا فائدہ نہیں دیتا ۔ کیونکہ مخالف لوگ