خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 2 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 2

1953ء 2 خطبات محمود میں نے کہا تھا کہ تم میں سے بہت سے لوگ اس مخالفت کی وجہ سے ڈر رہے ہیں ، کانپ رہے ہیں لیکن میں تمہیں یہ بتا دینا چاہتا ہوں ہتا ہوں کہ اب سختیوں کے زمانے جارہے ہیں اور اب یہ مخال یہ مخالفت کمزور پڑتی جائے گی ۔ میرے خطبات الفضل میں سے نکال کر دیکھ لو وہاں میرے یہ الفاظ موجود ہیں ۔ چنانچہ چند ہفتہ کے اندر اندر خدا تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ مخالفت کی وہ روکمزور پڑ گئی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ مخالفت کی اب کوئی کھڑ کی کھلی نہیں ۔ ابھی مخالفت کی کئی کھڑکیاں ہیں جو کھلی ہیں۔ دشمن کے کئی حملے ہیں جو ابھی باقی ہیں۔ لیکن سوال تو موجودہ وقت کی حالت کا ہوتا ہے۔ ایک شخص سمندر میں گو دتا ہے اور پانی کی ایک لہر اُ سے ڈھانپ لیتی ہے تو اُسے اس چیز کی ضرورت نہیں ہوتی کہ پانی کی کوئی اور لہر بھی ہے یا نہیں۔ اُس کی غرض صرف اُس لہر سے ہوتی ہے جس نے اسے ڈھانپ لیا ہے۔ پھر اور لہر آتی ہے وہ ہٹ جاتی ہے تو اور اہر آتی ہے۔ پس بجائے اس کے کہ میں کہوں کہ مخالفت کی کوئی رو باقی نہ رہے میں یہ کہوں گا کہ ابھی مخالفت کی اور روئیں باقی ہیں۔ میری زبان پر یہ لفظ آ۔ آتے تے رک گئے ہیں کہ خدا کرے اب یہ مخالفت بالکل ختم ہو جائے ۔ کیونکہ جیسا کہ میں نے پہلے بتادیا تھا۔ جماعت کو تھیٹروں کی ضرورت ہے ۔ ہماری اصل غرض تو اصلاح سے ہے۔ اگر جماعت کی اصلاح تھیٹروں سے ہو تو کبھی کوئی شخص یہ نہیں کہے گا کہ جماعت کو چھیڑے نہ لگیں ۔ جب جماعت اس حد تک پہنچ جائے گی کہ اس کی اصلاح کے لیے تھیٹروں کی ضرورت نہ ہو تو اُس وقت جماعت کے ذمہ دار لوگوں کا حق ہے کہ وہ دعا کریں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جماعت کو اور تھپیڑے نہ لگیں۔ لیکن جب جماعت کی بیداری کی یہی ایک صورت ہو کہ اسے تھپیڑے لگیں تو کوئی خیر خواہ ایسا نہیں ہوگا جو یہ دعا کرے کہ جماعت کو آئندہ تھپیڑے نہ لگیں ۔ وہ اس چیز کے لیے خدا تعالیٰ سے دعا کرے گا کہ خدا تعالیٰ شریروں کے شر سے محفوظ رکھے، وہ اپنی شرارتوں سے باز آجائیں ۔ باقی یہ کہ جماعت آئندہ تھیٹروں سے بچ جائے اس قسم کی دعائیں کوئی خیر خواہ نہیں کر سکتا ۔ یہ دعا اُس وقت ہو سکتی ہے جب یہ یقین ہو جائے کہ آئندہ روحانیت میں ترقی کرنے کے لیے کسی چھیڑے کی ضرورت نہیں ۔ ورنہ خیر خواہ سے خیر خواہ انسان منہ سے بے شک یہ ۔ کہے گا کہ خدایا ! جماعت خطرات سے محفوظ رہے۔ لیکن دل میں وہ ضرور یہ کہے گا کہ خدایا ! تھوڑے سے تھپیڑے اور ، خدایا ! تھوڑے سے اور تا جماعت کی درستی ہو جائے ۔