خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 107

1953ء 107 خطبات محمود اور جسے وہ بےحساب دے دیوے وہ کیا ہوگا ۔ ہم اس کا وہم بھی نہیں کر سکتے ۔ خدا تعالیٰ کہتا ہے ۔ لَهُمْ فِيهَا مَا يَشَآءُونَ ۔ وہ جو چاہیں گے انہیں ملے گا۔ یہ رحمانیت آگئی تم جتنا مانگو گے تمہیں ملے گا۔ اب رحیمیت کولو ۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ عَطَاء غَيْرَ مَجْدُودٍ 4 یعنی ہم جو تمہاری پنشن مقرر کریں گے وہ ختم ہی نہیں ہوگی ۔ وہ غیر مقطوع ہوگی ۔ وہ کائی نہیں جائے گی ۔ اس میں کوئی وقفہ نہیں ہوگا ۔ پس کنویں کے مینڈک کی طرح تم اپنے اوپر خدا تعالیٰ کا قیاس مت کرو۔ قرآن کریم نے خود رحمان اور رحیم کے معنی کرد۔ کر دیتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کہتا ہتا ہے ہے۔ ۔ لَهُمْ فِيهَا مَا يَشَاءُونَ وہ جو چاہیں گے انہیں ملے گا۔ یا مثلاً یہ فرمایا کہ اس دنیا میں ہر ذرہ انسان کو فائدہ پہنچانے کے لیے پیدا کیا گیا ہے اور دنیا کی ہر چیز اُس کی خدمت میں لگی ہوئی ہے 5 ۔ اور پھر جو کچھ خدمت میں لگا ہوا ہے۔ ذرا اُس کا اندازہ کرلو۔ دنیا کو لوگ آج تک ناپ رہے ہیں لیکن وہ ناپی نہیں جاسکی اور نہ قیامت تک لوگ اسے ناپ سکیں گے۔ یہ رحمانیت ہے۔ پھر رحیمیت لے لو تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے عَطَاء غَيْرَ مَجْذُوذٍ کہ ہمارے انعامات منقطع نہیں ہوں گے۔ پھر اگلے جہان کی رحمانیت کولو ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہاں لوگ جو چاہیں گے انہیں ملے گا۔ اس کے لیے محنت کا کوئی سوال نہیں ہوگا۔ وہاں محدود اعمال کے بدلہ میں اس قدر ملے گا جس کا اندازہ لگانا ہماری طاقت سے باہر ہے۔ اب تم سمجھ لو جو شخص رحیمیت کو دیکھتے ہوئے بسم الله الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ پڑھتا ہے۔ اس کے اندر کس قدر وسعت خیال پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ ایک غریب کو ایک پیسہ دینے لگتا ہے اور کہتا ہے بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تو اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ میں نے اس ایک پیسہ کے بدلے میں رحیمیت لینی ہے۔ وہ رحیمیت کیا ہے۔ عَطَاءٌ غَيْرَ مَجْذُودِ یعنی اُسے اس ایک پیسے کے بدلے میں ایسا انعام ملے گا جو کبھی ختم نہیں ہوگا۔ پس جب وہ کسی غریب کو پیسہ دیتا ہے۔ اور رحیمیت کو ذہن میں رکھ کر بسم الله الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ پڑھتا ہے تو اُس کا ذہن فوراً اس طرف جاتا ہے کہ مجھے غیر محدود بدلہ ملنا ہے۔ یا ایک عورت آدھا پھل کا ایک فقیر کو دیتی ہے اور بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ پڑھ کر دیتی ہے۔ تو اُس کی اس سے یہ مراد ہوتی ہے کہ اس پھلکے کے آدھے حصہ کے بدلے میں خدا تعالیٰ کی رحیمیت جاری ہوگی ۔ پھر رحیمیت کے وہ یہ معنی لیتی ہے کہ دیتی تو وہ نصف پھل کا ہے، دیتی تو وہ ایک تولہ آتا ہے۔ لیکن مانگتی جنت کی نعماء ہے جو کبھی نہ ختم ہونے والی ہیں۔ اور یہ اُس وقت ہوتا ہے جب وہ پھل کا بِسمِ الله الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ پڑھ کر دیتی ہے۔