خطبات محمود (جلد 34) — Page 100
1953ء 100 خطبات محمود دس بارہ ہزار روپیہ والا مالدار کہلاتا ہے ۔ پھر ان سے بڑھ کر بعض ممالک ہیں جن میں لاکھ دو لاکھ روپیہ والا مالدار کہلاتا ہے۔ پھر اور ممالک ہیں جن میں دس پندرہ لاکھ روپیہ والا مالدار کہلاتا ہے۔ پھر اور ممالک ہیں جن میں پچاس ساٹھ لاکھ روپیہ والا مالدار کہلاتا ہے۔ بعض اور ممالک ہیں جن میں کروڑ ڈیڑھ کروڑ روپیہ والا مالدار کہلاتا ہے۔ پھر بعض ممالک ایسے ہیں جن میں دس پندرہ کروڑ روپیہ والا مالدار کہلاتا ہے اس سے نیچے والا مالدار نہیں کہلاتا۔ ہمارے ملک کی حالت اب بہتر ہو رہی ہے۔ لیکن پھر بھی اس کی ایسی حالت ہے کہ آج سے پچیس سال پہلے گاندھی جی نے ہندوستان کی دولت کا یہ اندازہ لگایا تھا کہ ہمارے ملک میں اوسط ماہوار آمد 4/12 روپے فی کس ہے۔ اس سے تم اپنے ملک کی دولت کا اندازہ لگالو۔ اس اندازہ میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو لاکھ پتی اور کروڑ پتی کہلاتے ہیں ۔ 4/12 روپے میں سے ان کو بھی حصہ جاتا ہے۔ تبھی وہ لاکھ پتی یا کروڑ پتی بنیں گے۔ اگر ان کا لحاظ رکھا جائے تو شاید یک عام شخص کی ماہوار اوسط آمد 2/8 روپے ہو۔ 2/4 روپے ہمارے بعض آدمیوں کو ہزار پتی بالا کھ پتی بنانے پر لگ جائیں گے اس سے تم اندازہ لگا سکتے ہو کہ الفاظ کے معنوں میں کتنا فرق پایا جاتا ہے۔ ہر ایک شخص اپنے نظریہ کے مطابق کسی لفظ کے معنے لے لیتا ہے۔ مشہور ہے کہ کوئی سمندر کا مینڈک کنویں کے مینڈک کے پاس گیا ۔ کنویں کے مینڈک نے گیا۔ اُس سے کہا کہ سنا ہے سمندر بڑی چیز ہوتی ہے۔ سمندر کے مینڈک نے کہاہاں سمندر بڑی چیز ہے۔ اس پر کنویں کے مینڈک نے ایک چھلانگ ماری۔ مینڈک کے لحاظ سے وہ چھلانگ گز ڈیڑھ گز کی ہوگی اور کہا کیا سمندر اتنا بڑا ہے؟ سمندر کے مینڈک نے کہا سمندر بہت بڑی چیز ہے۔ چھلانگ مارنے سے تم اس کا اندازہ ہی نہیں لگا سکتے ؟ ۔ اس پر اس نے دو چھلانگیں ماریں اور وہ چھلانگیں شاید دو تین گز کی ہوں گی ۔ اور کہا کیا سمند را تنا بڑا ہے؟ سمندر کے مینڈک نے کہا سمندر بہت بڑی چیز ہے وہ اس سے بھی بڑا ہے۔ اس پر دوسرے مینڈک نے اکٹھی تین چھلانگیں لگائیں ۔ یہ فاصلہ شاید سات آٹھ گز کا ہوگا اور کہا کیا سمند را تنا بڑا ہے؟ کنویں کا مینڈک زیادہ سے زیادہ 21 22 فٹ گھیر والی جگہ میں ہوتا ہے۔ اس لیے وہ سمندر کا اندازہ نہیں لگا سکتا ۔ سمندر کے مینڈک نے کہا سمندر اس سے بھی بڑا ہوتا ہے اس پر کنوئیں کے مینڈک نے اس سے منہ پھیر لیا اور کہا چل چھوٹا کہیں کا۔ تیرے جیسا جھوٹا میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ اب کنویں کے مینڈک کے نزدیک کوئی علاقہ 22,21 فٹ سے چوڑا ہو ہی نہیں سکتا اور