خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 95

خطبات محمود 95 55 $1953 پس بسم اللہ کے آگے پہلا قدم رحمانیت کا آئے گا اور دوسرا قدم رحیمیت کا یعنی جو چیزیں خدا تعالیٰ انسان کو دے گا وہی وہ استعمال کرے گا۔اور جب وہ استعمال کرے گا تو کوئی نہ کوئی نتیجہ بھی اُس کا نکلے گا۔ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کسی دوسرے کو ایسی چیز دے جو اس کے کام میں آنے والی نہ ہو۔مثلاً ایک جولاہا ہے اُسے اگر میں دس من لوہا دے دوں تو اس سے کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ایک لوہار کو ایک تانی دے دوں تو اس سے کیا نتیجہ نکلے گا۔لوہار کپڑا بننے کا کام تو جانتا نہیں وہ تانی سے کیا فائدہ اٹھائے گا۔یا ایک ڈاکٹر کو ادویہ کی بجائے تانت 3 اور بانس دے دوں تو وہ خالی بیٹھا رہے گا۔پس وہی ہستی بے عیب سمجھی جائے گی جو ایسی چیزیں دے جو دوسرے کی طاقتوں کے مطابق استعمال ہو سکتی ہوں۔دوسرے کمال کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ جو چیزیں وہ دے وہ استعمال کے بعد اس کے لئے مفید بھی ہوں۔فرض کرو ایک آدمی کام تو کر سکتا ہے اور وہی چیزیں اُسے دی گئی ہیں جن کو وہ استعمال میں لاسکتا ہے۔مثلاً ایک جولا ہے کو ہم ایک تانی دے دیں۔اب وہ تانی کو استعمال میں تو لاسکتا ہے لیکن اگر وہ کپڑا بنائے اور وہ کسی کام نہ آتا ہو تو وہ اس سے کیا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔پس پہلا سوال یہ ہے کہ کیا جس شخص کو کوئی چیز دی گئی ہے وہ اُسے استعمال میں لاسکتا ہے؟۔دوسرا سوال یہ ہے کہ وہ اسے استعمال کر کے فائدہ اٹھا سکتا ہے؟۔مثلاً ایک لوہار لو ہا استعمال کر سکتا ہے۔لیکن اگر اُس کے کام سے کوئی نتیجہ نہ نکل سکے تو اُسے کیا فائدہ پہنچے گا۔ایک ڈاکٹر کو ادویہ دے دو۔وہ ادویہ کو استعمال میں لاسکتا ہے۔لیکن اگر کوئی بیمار ہی نہ ہو تو کسی ڈاکٹر کی عقل ماری ہے کہ وہ ادویہ اٹھائے پھرے۔یا مثلاً یہ ہو کہ ایک طرف ڈاکٹر ادو یہ اٹھائے پھرے اور دوسری طرف ملاں چھو کرے اور بیمار تندرست ہو جائے۔تو لوگوں کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ ادویہ کی قیمت ادا کرتے پھریں۔وہ ملاں کے پاس جائیں گے اور وہ چھو کر دے گا اور مریض تندرست ہو جائے گا۔انہیں کوئی رقم خرچ نہیں کرنی پڑے گی مفت میں کام ہو جائے گا۔پس یہ ساری چیزیں موجود ہونی چاہئیں۔سامان بھی موجود ہو۔پھر انسان اسے استعمال میں بھی لاسکتا ہو اور استعمال میں لانے سے کوئی نتیجہ بھی مرتب ہوتا ہو اور اسی پر لفظ رحیم دلالت کرتا ہے ہے۔اللہ تعالیٰ نے بے انتہا طاقتیں انسان کو دی ہیں اور یہ سب کچھ اس کی صفت رحمانیت کے تحت ہوا تھا ہے۔مگر ساتھ ہی وہ رحیم بھی ہے۔وہ کام کا اعلیٰ درجہ کا بدلہ دیتا ہے۔اور "بدلہ دیتا ہے " کے یہ معنے ہیں کہ اُس نے یہ سامان بھی کیا ہے کہ کام کے نتیجہ میں انسان کو فائدہ پہنچتا ہے۔اسی آیت کے مفہوم سے