خطبات محمود (جلد 34) — Page 90
1953ء 90 خطبات محمود بادشاہت کس سے لی ؟ تو وہ کہیں گے غلطی ہو گئی ۔ ہم نے اسے اپنی چیز سمجھ کر لے لیا تھا۔ لیکن جب یہی سوال حضرت ابو بکر سے ہوگا تو آپ فرمائیں گے یہ چیز حضور کی تھی اور حضور نے ہی مجھے دی ۔ دیکھو یہ کتنا بڑا فرق ہے۔ لیتا صلى الله عروسة پس بسم اللہ کے اندر ایک بہت بڑی برکت ہے ۔ بڑی برکت ہے۔ جس کی طرف رسول کریم ﷺ نے اشارہ کیا ہے ۔ لیکن لوگوں نے اسے معمہ بنا دیا ہے کہ بسم اللہ کے بغیر کسی کام میں برکت ہوتی ہی نہیں۔ برکت بیشک ہوتی ہے لیکن وہ غاصبانہ ہوتی ہے۔ انسان کسی کا مال بغیر اجازت حاصل کئے اٹھا ہے۔ وہ اس کا اپنا مال نہیں ہوتا۔ اپنا مال وہی : وہی ہوتا ہے۔ جو خدا تعالیٰ دیتا ہے۔ پس جو شخص بِسْمِ الله کہہ کر کوئی کامیابی حاصل کرتا ہے وہ اس کا حق ہوتا ہے۔ لیکن جو بسم اللہ پڑھے بغیر کوئی کامیابی حاصل کرتا ہے۔ وہ اس کا اپنا حق نہیں ہوتا ۔ جو چیز اللہ تعالیٰ کی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت سے ہی لی جاسکتی ہے۔ پس بِسمِ اللہ ہر برکت کی کلید ہے اور اس سے فائدہ اٹھانا ہر مومن کا فرض ہے۔،، )اصل 2 مئی 1953ء 1 كنز العمال في سنن الاقوال و الافعال كتاب الاذكار الكتاب الثاني في الاذكار من قسم الاقوال۔ الباب السابع الفصل الثاني في فضائل السُّوَرِ والآيات والْبَسْمَلَة جزء 1 ۔ صفحہ 277۔ بیروت لبنان 1998ء 2: اسد الغابہ جلد 3 صفحہ 37 زیر عنوان عبد اللہ بن عثمان بن عامر ( ابوبکر ) بیروت لبنان 2001ء 3: مالنکوف: کیورگی ماکسیما )Malenkov Georgi -Makism-ilianovich( اکسیم ایلیا نوچ روسی سیاست دان - آرنبرگ (ORENBURG) خانہ جنگی کے دوران اس نے ریڈ آرمی کے ساتھ خدمات انجام دیں ۔ 1946 ء میں وزارتی کا بینہ کا نائب صدرنشین ہوا۔ 1953ء میں وزیر ۔ را عظم مقرر ہوا ۔ 1955ء میں زرعی بحران میں اسے قصور وار ٹھہرایا گیا۔ چنانچہ اس نے وزارت عظمی چھوڑ دی اور نائب صدرنشین اور بجلی کا وزیر مقرر ہوا۔ خروشیف کی بہن سے شادی کی ۔ اردو جامع انسائیکلو پیڈیا جلد 2 صفحہ 1387 مطبوعہ لاہور 1988ء) 4: الكامل في التاريخ لابن الاثیر ( تاریخ ابن اثیر ) جلد 4 صفحہ 129 130 ۔ بیروت 1965ء