خطبات محمود (جلد 34) — Page 89
$1953 89 خطبات محمود ہی ختم ہوگئی۔پس دنیوی بادشاہوں کو بھی بادشاہت ملی۔اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔اگر بسم الله پڑھنے کے بغیر ان کا کوئی کام نہ ہوتا تو کافر ہر کام میں ہارا کرتے۔دنیوی بادشاہوں کے ہارٹ (Heart) فیل ہو جاتے۔ان کا کوئی بڑا کام بھی مکمل نہ ہوتا۔لیکن عملی طور پر انہوں نے بڑے بڑے عظیم الشان اور حیرت انگیز کام کئے ہیں اور اب بھی کرتے ہیں۔فرق صرف یہی ہے کہ دوسروں نے جو کچھ لیا وہ فقیروں کی طرح لیا۔اور ایک کو خدا تعالیٰ نے دیا اور اُسے بیٹے کی طرح ہے روٹی ملی۔پر بسم اللہ پڑھنے سے جو چیز ملتی ہے وہ اپنے حق کے طور پر ملتی ہے۔اگر بسم الله پڑھ لینے کے بعد کسی کو کوئی چیز ملتی ہے تو اُس کی گردن قیامت کے دن اونچی رہے گی۔وہ کہے گا اے خدا ! یہ چیز تو آپ کی تھی لیکن آپ نے ہی مجھے دے دی تھی میں نے چرائی نہیں۔لیکن دوسرے لوگ جب خدا تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہوں گے اور انہیں پوچھا جائے گا کہ تم کو یہ چیز کس نے دی؟ تو وہ کہیں گے حضور غلطی ہوگئی ہے۔ہم نے اسے اپنی چیز سمجھ کر لے لیا تھا۔اب یہ کتنا بڑا فرق ہے ہے۔رسول کریم ﷺ نے جب یہ فرمایا کہ جوشخص کام شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ نہیں پڑھتا اُس کا کام ابتر ہوتا ہے تو لوگوں نے غلطی سے یہ سمجھ لیا کہ بسم اللہ پڑھنے کے بغیر کوئی بڑا کام ہوتا ہی نہیں۔حالانکہ بڑے کام بسم اللہ پڑھے بغیر بھی ہوتے ہیں۔لیکن ایسے لوگوں کی کامیابی یزید کی طرح غاصبانہ ہوتی ہے۔جو کامیابی بسم اللہ پڑھنے کے بعد ہوتی ہے وہ کامیابی حاصل کرنے کی والے کا حق ہوتی ہے۔وہ خدا تعالیٰ کا دیا ہوا مال ہوتا ہے چوری کیا ہوا نہیں ہوتا۔اس لیے رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ بسم اللہ پڑھے بغیر جو کامیابی ہوتی ہے وہ حقیقی کامیابی نہیں ہوتی۔قیامت کے دن ایسے لوگوں کو شرمندہ ہونا پڑے گا۔ایک شخص کے پاس اپنی کمائی کا روپیہ ہوتا ہے۔دوسرا ایک اور شخص کی جیب کاٹتا ہے اور روپیہ حاصل کرتا ہے۔اب روپیہ تو دونوں کے پاس ہوگا لیکن ایک شخص کو ہر وقت ہتھکڑی کا خطرہ رہے گا اور ایک شخص خوش ہوگا کہ اُس نے خود محنت کی اور روپیه ها ی یہ حاصل کیا۔پس جو شخص دنیوی تدابیر کے ذریعہ کوئی چیز حاصل کرتا ہے وہ قیامت کے دن خدا تعالیٰ کے سامنے گردن نہیں اٹھا سکے گا۔قیامت کے دن جب یزید اور چنگیز خان سے سوال ہوگا کہ تم نے