خطبات محمود (جلد 34) — Page 88
$1953 88 خطبات محمود ابوبکر کی طرف منسوب بھی نہیں ، جو آپ کے خاندان کو بھی کبھی نہیں ملے وہ بھی آپ کے واقعات پڑھتے ہیں تو آج تک ان کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔ان کی محبت جوش میں ہے آجاتی ہے۔کوئی شخص آپ کو بُرا کہہ دے تو ان کا خون کھولنے لگتا ہے۔غرض اولا د تو الگ رہی غیر بھی اپنی جان ان پر شار کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ہر کلمہ گو جب آپ کا نام سنتا ہے تو کہتا ہے ہے رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ مگر وہ فخر کرنے والا یزید جو اپنے آپ کو بادشاہ ابن بادشاہ کہتے ہوئے نہیں تھکتا تھا جب فوت ہوا تو لوگوں نے اُس کے بیٹے کو اُس کی جگہ بادشاہ بنا دیا۔جمعہ کا دن ہے آیا تو وہ ممبر پر کھڑا ہوا اور کہا کہ اے لوگو! میرا دادا اُس وقت بادشاہ بنا جب اُس سے زیادہ بادشاہت کے مستحق لوگ موجود تھے۔میرا باپ اُس وقت بادشاہ بنا جب اُس سے زیادہ مستحق لوگ موجود تھے۔اب مجھے بادشاہ بنا دیا گیا ہے حالانکہ مجھ سے زیادہ مستحق لوگ موجود ہیں۔اے لوگو! مجھ سے یہ بوجھ اٹھایا نہیں جاتا۔میرے باپ اور میرے دادا نے مستحقین کے حق مارے ہیں لیکن میں اُن کے حق مارنے کو تیار نہیں۔تمہاری خلافت یہ پڑی ہے جس کو چاہو دے دو۔میں نہ اس کا کی اہل ہوں اور نہ اپنے باپ دادا کو اس کا اہل سمجھتا ہوں۔انہوں نے جابرانہ اور ظالمانہ طور پر حکومت کی پر قبضہ کیا تھا۔میں اب حقداروں کو ان کا حق واپس دینا چاہتا ہوں۔یہ کہ کر گھر چلا گیا 4۔اس کی ماں نے جب یہ واقعہ سنا تو کہا۔کمبخت ! تو نے تو اپنے باپ دادا کی ناک کاٹ دی۔اس نے ی جواب دیا۔ماں ! اگر خدا تعالیٰ نے تجھے عقل دی ہوتی تو تو بجھتی کہ میں نے باپ دادا کی ناک نہیں ہے کائی۔میں نے ان کی ناک جوڑ دی ہے۔اس کے بعد وہ اپنے گھر میں گوشہ نشین ہو کر بیٹھ گیا اور مرتے دم تک گھر سے باہر نہیں نکلا۔اب گجا یزید کا یہ کہنا کہ میرے سامنے کوئی بول نہیں سکتا اور گجا اُس کے بیٹے کا یہ کہنا کہ و غاصب اور ظالم تھا۔صحابہ جنہوں نے اسلام کی خاطر قربانیاں دیں اُن کی موجودگی میں اسے بادشاہ بننے کا کیا حق تھا۔پھر ان صحابہ کی اولاد کی موجودگی میں میرا کیا حق ہے کہ بادشاہ بن جاؤں۔یہ فرق ہے انسانوں کی دی ہوئی بادشاہت میں اور خدا تعالیٰ کی دی ہوئی بادشاہت میں۔حضرت ابوبکر کی بادشاہت خدا تعالیٰ کی دی ہوئی تھی۔خدا تعالیٰ کی دی ہوئی بادشاہت اب تک چلی آرہی ہے اور قیامت تک ختم نہیں ہوگی۔لیکن انسانوں کی دی ہوئی بادشاہت دوسری نسل میں وه