خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 66 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 66

$1953 66 99 خطبات محمود ملا ہے۔حالانکہ ماں کو بتانے سے اُس چیز کی عظمت نہیں بڑھ جاتی۔صرف اس لیے کہ فطرت کہتی ہے کہ خوشی کے وقت میں ماں کو بھی شامل کرنا چاہیے بچہ اپنی خوشی میں اپنی ماں کو بھی شریک کر لیتا ہے۔پھر بچے کے کو کوئی مارتا ہے تو اُس وقت بھی وہ دوڑتا ہوا گھر آتا ہے۔بسا اوقات مارنے والا بہت بڑی شان کا ہوتا ہے اور ماں بے چاری غریب اور مزدور پیشہ ہوتی ہے لیکن ایک بچہ کے لیے تو وہی سب سے بڑی ہوتی ہے ہے۔وہ اُس وقت بھی اسی کے پاس فریاد کرتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اس کی ماں اس کے غم میں شریک ہوگی اور شاید ( بلکہ بچے کے نزدیک یقینا) وہ اس کے غم کو دور کرنے کی کوشش کرے گی۔سو جہاں حقیقی تعلق ہوتا ہے وہاں خوشی میں بھی اور رنج میں بھی انسان اپنے عزیزوں اور دوستوں کے پاس جاتا ہے اور اگر کوئی فطرت کے اس قانون کے خلاف کرتا ہے اور وہ خوشی اور رنج کے وقت اپنے عزیزوں کے پاس نہیں جاتا تو یہ اس کے جنون اور دیوانگی کی علامت ہوگی۔مثلاً اگر بچہ دیوانہ ہے یا نیم دیوانہ ہے تو وہ نہ خوشی میں اپنی ماں کو شریک کرے گا اور نہ رنج میں اس سے مدد حاصل کرے گا۔اسی طرح ایک مجنون اور دیوانہ انسان خوشی اور رنج کے وقت اپنے عزیزوں کے پاس نہیں جاتا۔لیکن ایک تندرست اور صحیح الدماغ انسان خوشی اور رنج میں ہمیشہ اپنے عزیزوں کے پاس ہی پہنچتا ہے۔اور پھر صحیح الدماغ اور تندرست عزیز بھی ہمیشہ اُس کی مدد کرتے ہیں۔یہی فلسفہ دعا کا ہے۔انسان کا سب سے بڑا عزیز خدا تعالیٰ ہے اور جب انسان کو کوئی خوشی ہے تو جو سچی فطرت والا انسان ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کو اس نے سمجھا ہوا ہوتا ہے وہ بے اختیار خدا تعالیٰ کی طرف دوڑتا ہے اور کہتا ہے الْحَمْدُ لِلهِ ، اَلْحَمْدُ لِلَّهِ کیا ہے؟ اسی امر کا اظہار ہے کہ انسان سمجھتا ہے کہ آخر یہ چیز میرا خیر خواہ اور دوست ہی مجھے دے سکتا ہے۔اسے بیٹا ملتا ہے یا نیا عہدہ ملتا ہے یا مال ملتا ہے یا جائیداد ملتی ہے یا ترقی ملتی ہے یا عزت اور شہرت ملتی ہے یا کوئی اچھا کام کرنے کی توفیق ملتی ہے تو انسان کی فطرت کہتی ہے کہ آخر اسے یہ چیز ملی ہے تو کسی دوست سے ہی ملی ہے۔دشمن تو یہ چیز نہیں دیا کرتا اور اگر قانون یہ ہے کہ تحفہ خیر خواہ دوست ہی دیا کرتا ہے تو معا اس کی فطرت کہتی ہے کہ خدا تعالیٰ سے بڑا کون خیر خواہ اور دوست ہوسکتا ہے۔اس لیے بے اختیار اس کے منہ سے الْحَمْدُ لِلَّهِ نکلتا ہے۔پھر جب کوئی رنج انسان کو پہنچتا ہے تو فطرت کہتی ہے میرے اندر آخر کوئی کمزوری تھی تبھی تو مجھے یہ دکھ پہنچا۔اگر میں طاقتور ہوتا تو یہ دکھ کیوں پہنچتا۔اب اس دکھ کو کوئی طاقتور ہی دور کر سکتا۔ہے۔