خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 63 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 63

$1953 63 خطبات محمود اقلیت قرار دینے میں کامیاب ہو سکتے ہو۔اگر اسمبلی کے ممبروں کی اکثریت ہمیں اقلیت قرار دے دے گی تو ہم بھی مان لیں گے۔تم قومی زور لگاؤ ہم شرعی زور لگائیں گے۔ہم خدا تعالیٰ سے کہیں گے کہ ان لوگوں نے ہمیں اقلیت قرار دیا ہے اب تو اکثریت کے دلوں کو کھول دے کہ وہ احمدیت قبول کر لیں اور اقلیت کو اکثریت میں بدل دے۔تم یہ کہو کہ اسمبلی کے ممبروں کی اکثریت تمہاری بات مان لے اور وہ ہمارے قتل کا فیصلہ کر دے۔ان دونوں طریقوں کو جمہوریت درست قرار دیتی ہے۔ہمارا خدا تعالیٰ سے دعا کرنا بھی جمہوریت ہے اور تمہارا بندوں سے کہنا بھی جمہوریت لوگ بندوں پر زور دیں گے کہ اسمبلی کے ممبران کی اکثریت ان کی طرف آجائے اور احمدیوں کے خلاف فیصلہ کر دے اور ہم خدا تعالیٰ سے دعا کریں گے۔بہر حال اسمبلی کے ممبران کی اکثریت جو فیصلہ کرے گی وہ جمہوریت کے مطابق ہو گا لیکن اکیلے خواجہ صاحب کی یا کسی اور فرد کی نہیں چلے گی۔باقی ہمارے لیے یہ راستہ کھلا ہے کہ ہم جمہوریت کے باپ کی طرف توجہ کریں اگر ی بیٹے سعید ہوں تو باپ کی مرضی بیٹوں کی مرضی پر غالب آجاتی ہے۔لیکن جہاں باپ طاقتور ہو وہاں بیٹے سعید ہوں یا نہ ہوں۔بیٹے باپ کی بات مان لیتے ہیں۔اور ہمارا خدا تو طاقتور ہے۔وہ جب اپنی بات منوانا چاہتا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت اُس میں حائل نہیں ہوسکتی۔بہر حال ان لوگوں کا موجودہ طریق درست نہیں ان کے طریق کا اگر تجزیہ کیا جائے تو اس کے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے۔کہ اے خواجہ صاحب! آپ ہماری بات مانیں۔وزارت یا اسمبلی کی پروانہ کریں۔حالانکہ اس مطالبہ کو منوانے کا صحیح طریق یہ ہے کہ یہ لوگ پہلے لیگ کا مقابلہ کریں اور اُسے شکست دے کر اپنے ساتھیوں کو آگے لائیں اور اکثریت کو اپنی طرف کر لیں۔پھر دیکھیں کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں۔لیکن ان لوگوں کو خوب معلوم ہے کہ اکثریت ان کے ساتھ نہیں اسی لیے یہ لوگ جمہوری طریق اختیار نہیں کرتے۔درمیانی طریق اختیار کرنے کے معنے ہی یہ ہیں کہ اکثریت ان کے ساتھ نہیں۔جب الیکشن آتا ہے تو یہ لوگ کہہ دیتے ہیں ہم مسلم لیگ کے ساتھ ہیں کیونکہ سمجھتے ہیں کہ ہم اس وقت ننگے ہو جائیں گے۔اور جب الیکشن کا وقت گزر جاتا ہے تو یہ لوگ حکومت کے خلاف ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں ہماری بات مانو ! اکثریت ہمارے ساتھ ہے۔پس ان لوگوں نے جو طریق اختیار کیا ہے وہ جمہوری نہیں اور نہ ہی ملک کے لیے مفید