خطبات محمود (جلد 34) — Page 47
$1953 47 خطبات محمود تعجب یہ ہے کہ نظارت امور عامہ نے بھی ایسی باتیں اخبارات میں پڑھیں لیکن اس نے ان کے متعلق کوئی تحقیقات نہیں کی۔اس نے لاہور کی جماعت کے افسروں سے یہ نہیں پوچھا کہ وہ کس مرض کی دوا ہیں؟ وہ کس کام کے لیے ہیں؟ اور انجمن کس بلا کا نام ہے۔ایک واقعہ مشہور ہوتا ہے اور اخبارات میں چھپتا ہے لیکن مقامی جماعت مرکز کو اُس کے متعلق کوئی اطلاع نہیں دیتی۔بہر حال ایک خبر بعض اخبارات میں چھپی ہے اور کچھ ہمیں افواہیں پہنچی ہیں۔مثلاً ایک خبر تو یہ پہنچی ہے کہ کسی پاس کے گھر سے کسی احمدی نے جلسہ پر پتھر مارے۔اور ایک خبر یہ پہنچی ہے کہ کسی پاس کے گھر سے بعض گھریلو اختلافات اور جھگڑوں کی وجہ سے جلسہ پر پتھر پڑے لیکن ساتھ کے احمدی کو بدنام کر دیا گیا۔پھر ایک خبر یہ بھی پہنچی ہے کہ پتھر ایک احمدی کے گھر سے ہی پڑے ہیں لیکن پتھر مارنے والا ایک پاگل لڑکا تھا جو کچھ عرصہ پاگل خانہ میں بھی رہ چکا ہے۔اس نے شور سے گھبرا کر پتھر مارے۔بہر حال چونکہ ہمیں کوئی صحیح روایت نہیں پہنچی اور باوجود اس واقعہ پر اتنے دن گزر جانے کے نہ مقامی جماعت کو اپنے فرض کا احساس ہوا ہے اور نہ مرکزی ادارے نظارت امور عامہ کو اپنے فرض کا احساس ہوا ہے کہ وہ اس واقعہ کی تحقیقات کرتا۔اس لئے اس پر مزید خاموشی بھی اختیار نہیں کی جاسکتی۔اگر پتھر پھینکنے والا ایسا آدمی تھا جو احمدی جماعت سے کوئی تعلق نہیں رکھتا اور اُس نے یہ فعل بعض گھریلو جھگڑوں اور اختلافات کی بناء پر کیا ہے تو ہمیں اس کے متعلق کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔وہ آپ کی آپس میں سمجھ لیں۔اور اگر وہ کسی احمدی کا لڑکا تھا اور اُس کا پاگل ہونا ثابت ہو اور پھر یہ روایت بھی کی ثابت ہو کہ وہ ایک عرصہ تک پاگل خانہ میں بھی رہ چکا ہے تو یہ افسوسناک امر تو ضرور ہے لیکن ایک پاگل لڑکے کے فعل پر سمجھدار لوگوں کا شور مچانا کوئی پسندیدہ امر نہیں۔جو شخص ایک پاگل لڑکے کی حرکت پر جوش میں آجاتا ہے وہ خود بھی عقل کا مظاہرہ نہیں کرتا۔لیکن اگر تیسری روایت درست ہے کہ ایک سمجھداری اور عقلمند احمدی نے یہ فعل کیا ہے تو صاف بات ہے کہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اُس شخص کے اس فعل سے اپنی براءت کا اظہار کریں۔اسلام کسی پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔اگر کسی عقل مند اور سمجھدار احمدی نے یہ فعل کیا ہے تو زیادہ سے زیادہ وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ وہ لوگ جلسہ میں گالیاں دے رہے تھے اس وجہ سے اُسے جوش آ گیا۔لیکن قرآن کریم میں یہ مذکور ہے کہ ایسے موقع پر مومن کیا کریں۔قرآن کریم کہتا ہے ہے کہ اگر کسی مجلس میں کوئی شخص جہالت کی باتیں کرے تو تم اُس مجلس سے اٹھ کر آ جاؤ یہ نہیں کہ تم اُس