خطبات محمود (جلد 34) — Page 48
$1953 48 خطبات محمود پر حملہ کر دو۔پس جہاں تک گالی گلوچ کا سوال ہے گالی گلوچ کرنے والا اپنے اخلاق کا مظاہرہ کرتا ہے۔ایک مومن کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اُس سے لڑنے لگ جائے۔مومن کے لیے قرآن کریم یہ ارشاد فرماتات ہے کہ وہ اُس مجلس کو چھوڑ کر چلا جائے۔اگر وہ اُس مجلس میں نہیں بلکہ وہ دوسری جگہ ہے اور وہاں اُسے آواز آتی ہے تو وہ کچھ وقت کے لیے گھر خالی کر کے چلا جائے۔اور اگر اُسے یہ خیال ہو کہ گھر چھوڑنے کی وجہ سے ممکن ہے کہ دشمن حملہ کر کے اسے ٹوٹ لے تو وہ کانوں میں روئی ڈال لے۔بہر حال قرآن کریم نے یہ کہا ہے کہ مومن ایسی مجلس سے اٹھ کر چلا جائے۔چاہے وہ اٹھ کر جانا جسمانی طور پر ہو یا عقلی اور فکری طو پر ہو۔مثلاً کانوں میں روئی ڈال لینا بھی مجلس میں اٹھ کر چلے جانے کے برابر ہے۔اس کے سوا اور کوئی بات جائز نہیں۔پس اگر تیسری روایت درست ہو کہ کسی سمجھدار اور عقلمند احمدی نے یہ فعل کیا ہے تو اُسے یادرکھنا چاہیے کہ اُس نے یہ فعل احمدیت کی تعلیم کے خلاف کیا ہے۔اُس نے صرف قانونِ وقت کو ہی نہیں تو ڑا بلکہ قانونِ شریعت ( جو دائمی ہے اور اس پر انسانی زندگی کا انحصار ہے ) کو بھی تو ڑا ہے۔احمدیت اس کے اس فعل کو کسی صورت میں بھی جائز قرار نہیں دیتی۔جو فعل اسلام کے خلاف ہے وہ احمدیت کے بھی خلاف ہے۔اس کے بعد میں پچھلے جمعہ کے خطبہ کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔میرے گزشتہ جمعہ کے خطبہ کے متعلق احراریوں اور اُن کے ساتھیوں نے شور مچایا ہے کہ دیکھو! امام جماعت احمدیہ نے جماعت کو تلقین کی ہے کہ تم اپنی جگہوں پر دشمن سے لڑتے ہوئے مارے جاؤ۔میں نے جو کچھ کہا تھا وہ ایک تقریر کے نتیجہ میں کہا تھا جو اس پارٹی کے جو ہمارے خلاف شور مچارہی ہے ایک لیڈر نے کی تھی۔میں تو اس کی وقت وہاں موجود نہیں تھا۔مجھے بتایا گیا کہ اُس کی یہ تقریر اخبارات میں چھپی ہے۔اس لیڈر نے کہا تھا ت کہ اگر حکومت نے احمدیوں کو اقلیت قرار دینے کے متعلق جلد کوئی انتظام نہ کیا تو پاکستان میں وہی کچھ تھی ہوگا جو مشرقی پنجاب میں ہوا تھا۔اُس نے قانون کی زد سے بچنے کے لئے یہ الفاظ بولے تھے ورنہ مشرقی پنجاب میں یہی ہوا تھا کہ ہندوؤں اور سکھوں نے جو اکثریت میں تھے مسلمانوں کو مارا تھا، اُن کے گھروں کو ٹوٹا تھا اور اُن کی جائیدادوں کو جلایا تھا۔یہی بات اب بھی احراری اور اُن کے ساتھی کرنا چاہتے ہیں۔اب اس کے جواب کی دوہی صورتیں ہیں۔اول یہ کہ وہ کہہ دیں کہ ہم نے یہ نہیں کہا۔اخبارات نے اگر یہ بیان شائع کیا ہے تو غلط شائع کیا ہے۔اور اگر وہ یہ بات شائع کر دیں تو بات ہی ختم