خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 369

$1953 369 خطبات محمود اس کی پٹی کر دوں تو کافی ہے۔لیکن امدادی وفد میں جو ڈاکٹر تھے وہ فوجی تجربہ کار تھے۔انہوں نے کی کہا یہ علاج کافی نہیں۔ممکن ہے یہ بیماری جسے تم معمولی خیال کر رہے ہو خطر ناک صورت اختیار کر جائے اور اس کی ٹانگ پر اور چمڑا لگا نا پڑے۔اب اگر پہلا وفد غلطی نہ کرتا اور دوائیاں واپس نہ لے آتا تو شاید وہ اُسے طبی امداد پہنچانے سکتے۔اب اگر مریض کو سر گودھا پہنچا دیا گیا ہے تو وہ بچ جائے گا اور اگر اُسے سرگودھا نہیں پہنچایا گیا تو ڈر ہے کہ وہ خطر ناک طور پر بیمار نہ ہو جائے اور اُس کی جان ضائع نہ ہو جائے۔پس جو لوگ جانے والے ہیں انہیں یا درکھنا چاہیے کہ وہ جو کام بھی کریں اُسے پورے طور پر کیا کریں۔کام کو ادھورا چھوڑ دینا کوئی خدمت نہیں۔مجھے یاد ہے کہ پارٹیشن کے بعد میں ایک دفعہ پشاور جارہا تھا۔ہم کاروں پر سوار تھے۔مستورات بھی ساتھ تھیں۔شام کے قریب ہم ایک ایسے علاقے میں پہنچے۔جہاں ڈا کے پڑتے کی تھے اور موٹریں وہاں سے تیزی سے گزر جاتی تھیں۔اُس معین علاقہ میں جب پہنچے تو ہم نے دیکھا کہ ایک جیپ جو سامنے سے آرہی ہے جس میں پٹھان سوار ہیں وہ جیپ یکدم خراب ہو گئی۔پہلے تو ی یہ سمجھا گیا کہ یونہی چلتی چلتی ٹھہر گئی ہے۔زور لگانے اور دھکا دینے سے حرکت میں آجائے گی۔چنانچہ انہوں نے زور لگایا اور جیپ چل پڑی لیکن دو چار قدم چل کر پھر رک گئی۔جب ہم پاس سے گزرے تو میں نے دونوں موٹروں کو کھڑا کر لیا اور ڈرائیوروں سے کہا کہ دونوں جا کر اُن کی مدد کرو۔انہوں نے ان کی مدد کی اور کہا کہ یہ کام ایک گھنٹہ سے پہلے نہیں ہوگا۔میرے ساتھیوں نے مجھے مشورہ دیا کہ ہم ایک ایسی جگہ پر ہیں جہاں اکثر ڈا کے پڑتے ہیں۔اور مستورات ساتھ ہیں۔ہمیں یہاں سے جلدی گزر جانا چاہیے۔اور لاریاں آئیں گی تو ان لوگوں کو مددمل جائے گی۔مگر ی میں نے کہا یہ غلط ہے۔اللہ تعالیٰ نے جب ان کی تکلیف ہمیں دکھائی ہے تو ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کی کی مدد کریں۔ورنہ وہ ہمیں اِن کی تکلیف نہ دکھاتا۔اگر ہم یونہی یہاں سے گزر جائیں تو یہ ہمارا اخلاقی جرم ہوگا۔ہم نے ان لوگوں کی تکلیف دیکھی ہے اس لیے اب ہم آگے نہیں جا سکتے۔چنانچہ جیپ کے درست کرنے پر ایک گھنٹہ لگا۔وہ لوگ بھی یہ محسوس کرتے تھے کہ ہم خطرہ برداشت کر کے ان کی مدد کر رہے ہیں۔ان کے افسر نے کہا۔آپ تشریف لے جائیں اور اپنے آپ کو خطرہ میں نہ