خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 319

$1953 319 خطبات محمود یکساں ہیں؟ اگر تم خود عمل نہیں کرتے تو تمہیں یاد رکھنا چاہئیے کہ قرآن کریم کہتا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ اگر تم کہتے ہو کہ احمدیت کی یہ یہ تعلیم ہے اور تم اس پر عمل عمل کرتے ہو اور پھر دوسروں سے کہتے ہو۔اس پر عمل کرو تو تم کہہ سکتے ہو ہم سچ کی تعلیم دیتے ہیں۔تم ہماری زندگی دیکھو اور پھر ہمارے ہمسائیوں اور ہمارے ساتھ کام کرنے والوں سے دریافت کر لو؟ کیا ہم سچ بولتے ہیں یا نہیں؟ جب ہم خود سچ بولتے ہیں تو ہمارا حق ہے کہ دوسروں سے کہیں کہ تم بھی سچ بولو۔راسی طرح دیانت ہے۔تم پہلے خود اپنے اندر دیانت پیدا کرو اور پھر لوگوں سے دیانت پیدا کرنے کے لیے کہو۔قرآن کریم نے یہ نہیں کہا کہ تم بولو نہیں بلکہ یہ کہا ہے کہ کام سے پہلے نہ بولو۔قرآن کریم نے یہ نہیں کہا کہ تم نصیحت نہ کرو بلکہ یہ کہا ہے کہ تم خود وہ کام کرو اور پھر دوسروں سے کرنے کی کے لیے کہو۔تم پہلے سچ بولو پھر دوسروں کو سچ بولنے کے لیے کہو۔تم پہلے خود دیانت اختیار کرو تو پھر کی دوسروں کو دیانت دار بنے کی تحریک کرو۔پہلے خود انصاف کرو پھر دوسرے سے انصاف کرنے کے لیے کہو۔خود عمل کرنے سے پہلے کسی کو کسی امر کی نصیحت کرنا بے کار ہے۔اس کا کچھ فائدہ نہیں ہوتا بلکہ الٹا نی نقصان ہوتا ہے۔قوموں کے اعضاء ڈھیلے ہو جاتے ہیں اور اُن میں عمل کی قوت مفقود ہو جاتی۔کیونکہ کوئی شخص نصیحت کرنے والے سے تعاون نہیں کرتا اور اُس کی بات کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔“ الفضل 30 اگست 1961ء) 1 الصف: 3 :2 فَلَمَّا جَاءَهُمْ مُوسَى بِايْتِنَا بَيِّنت (القصص: 37) هُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ عَلَى عَبْدِة ايتٍ بَيِّنَتٍ لِيُخْرِجَكُمْ مِنَ الظُّلمتِ إِلَى النُّورِ (الحديد: 10) 3 وَيَقُولُونَ أَبِنَّا لَتَارِكُوا لِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنِ (الصَّفْت : 37) ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَقَالُوْا مُعَلَّم مَّجْنُونٌ (الدخان: 15) فَتَوَلَّى بِرُكْنِهِ وَقَالَ سُحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ (الذريت: 40)