خطبات محمود (جلد 34) — Page 301
$1953 301 خطبات محمود کو پیش کرتا ہے اس میں ننانوے حصے عذاب کے آتے ہیں اور ایک حصہ رحم آتا ہے۔پس ہمارا ی فرض ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی صفات اور اُس کی محبت پر ایمان رکھیں۔جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کو بیان کیا ہے نہ کہ جس طرح لوگوں نے بیان کیا ہے ، لوگوں کو خدا تعالیٰ کا کیا پتا خدا تعالیٰ کو خود اپنا پتا ہے۔اس لیے یہ دیکھنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ نے کیا کہا ہے۔صلى اللهم پھر تم اپنی ذات میں اس تعلیم کے لانے والے انسان کو یادرکھو اور اس کے احسانوں کو تازہ رکھو۔محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنے نمونہ، قربانی اور خدمت سے جو کام کیا وہ تو ہے ہی۔سب سے بڑی چیزی جو ہے وہ قرآن کریم ہے جو آپ لائے۔قرآن کریم کے اندر اتنی ہدایت ہے، اتنا عرفان ہے، اتناعلم ہے کہ اگر ہم سوچیں سمجھیں اور صحیح طور پر عمل کریں تو کسی اور چیز کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔بلکہ اگر ہم اسے صحیح طور پر سمجھیں سوچیں اور اس پر عمل کریں تو ہمارے پاس وہ کچھ آجاتا ہے جو باقی دنیا کے پاس نہیں۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے پاس وہ کچھ آجاتا ہے کہ اسے دیکھ کر ہمیں دوسری دُنیا حسرت کے ساتھ دیکھتی ہے۔جیسا کہ قرآن کریم میں ہی آتا ہے کہ رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ 4 - پھر تمہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جیسے ایک سمندر میں گودنے والے ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں جیسے سفروں میں لوگ آپس میں محبت کا سلوک کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے تعلق قائم کر لیتے ہیں۔ایک ہندوستانی جب جاپان میں جاتا ہے تو وہ سب دشمنی بھول جاتا ہے اور باقی ہندوستانیوں کے ساتھ محبت اور پیار سے رہتا ہے۔اس دنیا میں بھی انسانوں کی یہی حالت ہے۔اگر ہم خدا تعالیٰ کو سمجھیں تو یہ دنیا ایسی ہی ہے۔بچہ ماں کے پیٹ سے آتا ہے۔وہ اپنے ساتھ کچھ نہیں لاتا اور نہ اس جہان کے متعلق اسے کچھ علم ہوتا ہے۔جس طرح کشتی سمندر میں چھوڑ دی جاتی اوی ہے اُسی طرح وہ اس دنیا میں آجاتا ہے۔گویا ہم سارے اس دنیا میں آنے والے ایک ہی ملک کے ہیں یعنی حضرت الہی سے آئے ہیں۔اگر خدا تعالی خالق ہے تو ہمیں ماننا پڑے گا کہ اُسی کے حضور سے ساری مخلوق آئی ہے۔گویا ایک ہی ملک کے باشندے ایک جگہ پر آئے ہیں۔اور جو جذ بہ غیر ملک کے رہنے والوں میں ہوتا ہے کیا وجہ ہے کہ وہ انسانوں میں نہ ہو۔لیکن عملی طور پر ہم میں وہ جذ بہ نہیں پایا جاتا۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم اس چیز کو بھول جاتے ہیں کہ ہم ایک ہی مقام