خطبات محمود (جلد 34) — Page 186
$1953 186 خطبات محمود وہ فقہاء کی اولاد میں سے ہوتے ہیں، بعض دفعہ وہ مغربی تعلیم یافتہ لوگوں کی اولاد میں ہوتے ہیں ، بعض دفعہ وہ قومی کارکنوں کی اولاد میں سے ہوتے ہیں۔مگر اس کے باوجود وہ ہمیں یہ لکھنا کوئی معیوب نہیں سمجھتے کہ اگر ہماری تعلیم کا انتظام کر دیا جائے یا ہماری ملازمت کا انتظام کر دیا جائے یا ہماری شادی کا انتظام کر دیا جائے تو ہم احمدی ہونے کے لیے تیار ہیں۔ہم تو ایسے لوگوں کو یہ جواب دے دیا کرتے ہیں کہ مذہب بیچا نہیں جاتا۔آپ لوگ مذہب کو بیچنا چاہتے ہیں اور ہم میں اس کے خریدنے کی طاقت نہیں۔مگر سوال تو یہ ہے کہ لکھنے والے کو یہ جرات ہوتی کیوں کی ہے؟ ایک لکھنے والا جب لکھتا ہے کہ میں آپ کے مذہب میں داخل ہونا چاہتا ہوں۔آپ اس کے بدلہ میں مجھے کیا دیں گے؟ تو میں تو سمجھتا ہوں اگر اُس میں ذرا بھی سنجیدگی ہوتی تو یہ الفاظ لکھتے وقت اُس پر فالج گر جاتا یا اُس کا دل بند ہو جاتا اور اس میں ذرہ بھر بھی ایمان ہوتا تو وہ یہ خیال بھی اپنے دل میں نہ لاتا کہ مذہب کو دوسرے کے پاس بیچا جاسکتا ہے۔اب خواہ یہ مولویوں کے ورغلانے کا نتیجہ ہو یا کسی کے اپنے ہی ایمان کی کمزوری اس کا باعث ہو بہر حال وہ اتنا بڑا فقرہ اپنے خط میں لکھتا ہے کہ جس مذہب اور عقیدہ کا میں پابند ہوں وہ ہے تو سچالیکن اگر آپ میری تعلیم کا انتظام کر دیں یا میری شادی کا انتظام کر دیں یا میری نوکری کا انتظام کر دیں تو میں اپنے عقیدہ اور مذہب کو چھوڑنے کے لیے تیار ہوں۔اس سے پتا لگتا ہے کہ اس زمانہ میں لوگ ایمان کا تو ی دعوی کرتے ہیں۔لیکن اُن کے ایمانوں میں سنجیدگی نہیں پائی جاتی۔ذرا جرح کرو تو وہ کہنے لگی جاتے ہیں کہ ارے ہے کیا۔اصل چیز تو پیسہ ہی ہے۔یوں شاید " اسلام زندہ باد " کے نعرے لگانے میں وہ سب سے آگے آگے ہوں۔لیکن پرائیوٹ ملاقات ہو تو کہتے ہیں کہ اصل چیز تو پیسہ ہی ہے۔پھر ہر ایک کے دو دو تین تین مذہب ہوتے ہیں۔زبان کا مذہب اور ہوتا ہے۔خیالات کی کا مذہب اور ہوتا ہے اور جذبات کا مذہب اور ہوتا ہے۔پھر خلوت کا مذہب اور ہوتا ہے اور جلوت کا مذہب اور ہوتا ہے۔دوستوں کی مجلس میں بیٹھتے ہیں تو بے تکلفی سے مذہب پر ہنسی اور تمسخر اڑانا شروع کر دیتے ہیں اور جب باہر جلسوں میں جاتے ہیں تو گلے پھاڑ پھاڑ کر مذہب کی تائید میں تقریریں کرنا شروع کر دیتے ہیں۔جب وہ سوچتے اور غور کرتے ہیں تو انہیں مذہب کی