خطبات محمود (جلد 34) — Page 174
$1953 174 خطبات محمود سے کم ہے وہ ایک آنہ فی ایکڑ کے حساب سے اور جن کے پاس اس سے زیادہ زمین ہے وہ دو آ۔فی ایکڑ کے حساب سے مسجد فنڈ میں چندہ دیں۔اسی طرح وہ مزارع جن کے پاس دس ایکڑ سے کم مزارعت ہے وہ دو پیسہ فی ایکڑ کے حساب سے اور اس سے زائد مزارعت والے ایک آنہ فی ایکڑ کے حساب سے رقم ادا کریں۔اسی طرح تاجروں کے متعلق میں نے کہا کہ جو بڑے تاجر ہیں مثلاً منڈیوں کے آڑھتی ہیں یا کمپنیوں اور کارخانوں والے ہیں وہ ہر مہینہ کے پہلے دن کے پہلے سودے کا منافع مسجد فنڈ میں دیا کریں اور جو چھوٹے تاجر ہیں وہ ہر ہفتہ کے پہلے دن کے پہلے سودے کا منافع مسجد فنڈ میں دیا کریں۔لیکن جہاں تک میرا علم ہے شاید ہی اس علاقہ میں سے کسی نے اس تحریک میں حصہ لیا ہو۔* * یا اگر کسی نے حصہ لیا ہے تو میرے سامنے اُس کی مثال نہیں آئی۔اوروں کو جانے دو یہاں جو مالک زمیندار ہیں اُن کی طرف سے بھی اس تحریک میں کوئی حصہ نہیں لیا گیا۔جہاں تک میری ذات کا سوال ہے میں کہہ سکتا ہوں کہ اس بارہ میں مجھ پر کوئی الزام نہیں۔کیونکہ میں نے اپنے دفتر کے انچارج کو اس طرف متواتر توجہ دلائی ہے۔مگر باوجود اس کے حقیقت یہی ہے کہ یہ چندہ میری طرف سے بھی ادا نہیں ہوا۔اور خود انجمن کی طرف سے بھی ادا نہیں ہوا۔اس طرح جو احمدی مزارع ہیں انہوں نے بھی اس تحریک کی طرف کوئی توجہ نہیں کی۔گویا جہاں تک میر اعلم ہے سندھ کے زمینداروں کا اس تحریک میں قریباً صفر حصہ ہے۔یہی حال تاجروں کا ہے۔کنری میں بھی اور نبی سر روڈ اور جھڈو میں بھی ہمارے احمدی تاجر پائے جاتے ہیں۔مگر انہوں نے بھی غفلت سے کام لیا ہے اور اس چندہ کی اہمیت کو نہیں سمجھا۔یہ چیز یا تو اس لیے پیدا ہوتی ہے کہ انسان کے پاس جوں جوں پیسے آتے جاتے ہیں وہ مست اور غافل ہوتا چلا جاتا ہے۔اور یا پھر اس لیے پیدا ہوتی ہے کہ بعض لوگ اپنے آپ کو چودھری سمجھنے لگ جاتے ہیں۔اور خیال کرتے ہیں کہ جتنے حکم ہیں وہ دوسروں کے لیے ہیں ہمارے لیے نہیں۔ی تمام تفاصیل 11 مئی 1952ء کے خطبہ جمعہ میں درج ہیں جو الفضل 22 جون 1952ء میں شائع ہو چکا ہے۔نبی سر روڈ کے احمدی تاجروں نے لکھا ہے کہ وہ اس پر عمل کر رہے ہیں تحقیق بعد میں ہوگی۔* میرے اس خطبہ کے بعد میرے دفتر کے انچارج نے چندہ ادا کر دیا۔