خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 173 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 173

$1953 173 خطبات محمود اب مجھ سے زکوۃ لے لی جائے۔آپ نے فرمایا اب نہیں ، کیونکہ ہم نے حکم دے دیا ہے کہ تم سے زکوۃ وصول نہ کی جائے۔اگر وہ آجکل کے لوگوں کی طرح ہوتا تو شاید خوش ہوتا کہ چلو چھٹکار ہو گیا۔مگر باوجود اس کے کہ وہ ضیعف الایمان تھا آجکل کے ایمانداروں سے وہ زیادہ ایمانداری تھا۔چنانچہ اس انکار سے وہ خوش نہیں ہوا کہ چلو چھٹی ہو گئی بلکہ اُس کے دل کو صدمہ پہنچا۔اور اُس نے سمجھا کہ مجھ سے زکوۃ لینے سے جو انکار کیا گیا ہے یہ میرے لیے سزا ہے انعام نہیں۔اور وہ افسوس کا اور ندامت کا اظہار کرتا رہا۔مگر رسول کریم ﷺ نے اُس سے زکوۃ وصول نہیں کی۔رسول کریمی کی وفات کے بعد وہ حضرت ابوبکر کے زمانہ خلافت میں پھر ز کوۃ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔مگر حضرت ابو بکر نے فرمایا جس سے رسول کریم اللہ نے زکوۃ وصول نہیں کی۔اُس سے میں بھی زکوۃ وصول نہیں کر سکتا۔اور وہ روتا ہوا واپس چلا گیا 1۔صل الله غرض انسان مختلف نقطہ ہائے نگاہ سے اپنے حالات کو دیکھتا ہے۔کئی غریب لوگ ہوتے ہی ہیں جنہیں دین کی خدمت کا موقع ملے تو وہ اتنے خوش ہوتے ہیں کہ یوں معلوم ہوتا ہے انہیں کوئی بہت بڑی دولت مل گئی ہے۔اور کئی آسودہ حال لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی جان نکلتی ہے اور دین کی خدمت کے لیے اپنا روپیہ خرچ کرنے اور اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے سے وہ اس طرح بھاگتے ہیں جس طرح دیوانہ کتے سے انسان بھاگتا ہے۔یہاں سندھ میں بھی میں نے دیکھا ہے۔کنری اور بعض دوسرے مقامات پر جو احمدی دوست موجود ہیں وہ إِلَّا مَا شَاءَ اللہ قریباً سب کے سب ایسے ہیں جو ہجرت سے پہلے مالی لحاظ سے مختلف قسم کی مشکلات میں مبتلا تھے مگر ہجرت کے بعد ی ان کی مالی حالت اچھی ہو گئی۔یا ہجرت سے پہلے ان کی کوئی تجارت نہیں تھی یا اگر تجارت تھی تو اس کے میں نقصان ہی نقصان ہوا کرتا تھا مگر کنری میں آئے تو انہیں دُکانیں بھی مل گئیں زمینیں بھی مل گئیں نی اور ان کی تجارتیں کامیاب طور پر چل نکلیں۔یا اگر پہلے ان کے پاس کوئی زمین نہیں تھی تو یہاں سلسلہ کی اسٹیٹس پر مزارع بن کر انہوں نے زمینیں خرید لیں۔لیکن باوجود اس کے کہ یہاں کے لوگوں کی مالی حالت پہلے سے بہت زیادہ اچھی ہے جہاں تک میں سمجھتا ہوں ان لوگوں میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کا احساس بہت کم ہے۔مثلاً گزشتہ سال میں نے مختلف ممالک میں تعمیر کرنے کے لیے جماعت میں ایک تحریک کی اور میں نے کہا کہ وہ زمیندار جن کی زمین دس ایکڑ