خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 131 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 131

$1953 131 خطبات محمود اس کی کوئی وجہ بھی تو ہونی چاہیے۔کیا تم سمجھتے ہو کہ پچھلے فسادات میں جو کچھ ہوا وہ کچھ کم تھا ؟ احمدیوں کو مارا گیا ، اُن کے گھر لوٹے گئے اور عوام میں اس قدر جوش پیدا کر دیا گیا کہ گورنمنٹ بھی ہل گئی۔اُن کا دنوں عرب ، مصر اور امریکہ سے جو لوگ آتے تھے وہ بھی ہم سے یہی پوچھتے تھے کہ جماعت کے خلاف یہ جوش کیوں ہے؟ اگر ہم انہیں یہ کہتے کہ ہم سارے بچے ہیں اور راستباز ہیں ، نیک ہیں ، غرباء سے ہمدردی کرتے ہیں، مخلوق خدا سے ہمیں محبت ہے، ہم میں قربانی اور ایثار پایا جاتا ہے۔لیکن ان لوگوں میں چونکہ یہ باتیں نہیں پائی جاتیں اس لیے یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں مٹا دیں تا کہ ہمارے آئینہ میں ان کو اپنی خراب شکل نظر نہ آئے۔تو یہ بات سب لوگ سمجھ جاتے ہیں۔لیکن ہمیں یہ جواب دینا پڑتا تھا کہ یہ لوگ حیات مسیح کے قائل ہیں۔اور ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام دوسرے لوگوں کی طرح فوت ہوگئے ہیں۔ہم جہاد کی اور تشریح کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کوئی زمانہ تبلیغی جہاد کا ہوتا ہے اور کوئی زمانہ تلوار کے جہاد کا ہوتا ہے۔لیکن یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہر حالت میں تلوار کا جہاد فرض ہے۔اس اختلاف کی وجہ سے یہ لوگ ہمیں مارتے ہیں، کوٹتے ہیں اور بُرا بھلا کہتے ہیں۔ہمارا یہ جواب خواہ کی کتنا بھی معقول ہوتا ، اُن لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتا تھا اور وہ حیران ہوتے تھے کہ اس اختلاف کی وجہ سے لوگ اتنی مخالفت کیوں کرتے ہیں۔امریکن اور یورپین لوگ آئے تو انہوں نے بھی یہی سوال کیا کہ آخر کوئی وجہ تو ہے جس کی وجہ سے سب لوگ آپ کے خلاف ہیں۔ہم اس کا یہ جواب دے سکتے تھے تھے اور دیتے بھی تھے کہ آپ اُن سے پوچھیں۔غصہ انہیں آتا ہے ہمیں تو نہیں آتا۔اس لیے وہی بتا سکتے ہے ہیں کہ ان کے غصہ کی کیا وجہ ہے لیکن وہ لوگ کہتے ہم آپ سے بھی پوچھنا چاہتے ہیں۔آپ بھی تو اسی ملک میں رہتے ہیں آپ کو پتا ہونا چاہیے کہ آخر ان کے غصہ میں آنے کی کیا وجہ ہے۔اس پر ہم اختلافات بیان کرتے۔لیکن وہ ان اختلافات کو سمجھ نہیں سکتے تھے۔مثلاً اگر ایک جاپانی ہم سے اس قسم کا سوال کرتا ہے تو وہ حضرت مسیح علیہ السلام اور رسول کریم ﷺ کی صداقت کا ہی قائل نہیں۔اُس کے سامنے اگر ہم یہ بات بیان کرتے ہیں کہ یہ لوگ حیات مسیح کے قائل ہیں اور عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام بجسد عنصری آسمان پر موجود ہیں۔لیکن ہم کہتے ہیں کہ آپ دوسرے لوگوں کی طرح وفات پاگئے ہیں۔تو اُس کے لیے یہ بالکل بے حقیقت چیز ہے۔اگر ہم کہتے ہیں کہ ہم جہاد کا یہ مفہوم پیش کرتے ہیں اور اُن کا عقیدہ جہاد سے متعلق یہ ہے۔تو وہ اس کی کوئی قیمت نہیں سمجھتا۔