خطبات محمود (جلد 34) — Page 121
$1953 121 خطبات محمود بھی چھوڑ انہیں جاسکتا۔مجھے یہ یقین نہیں کہ تم سارے روزے رکھتے ہو۔لیکن اگر روزہ رکھتے ہو تو اس کا فائدہ کیا کہ ادھر روزے رکھتے ہو اور اُدھر بے ایمانی کرتے ہو۔میں سمجھتا ہوں کہ تم میں سے بہت۔آدمی جو اب سر ہلا رہے ہیں وہ بھی اس بے ایمانی کے ذمہ دار ہیں۔اگر تم اپنے عزیزوں اور دوستوں اور ماتحتوں کو بچاتے ہو تو تم بھی بے ایمان ہو۔ورنہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نہ پکڑ واؤ۔اگر ساری قوم یہ فیصلہ کرلے کہ وہ بددیانتی کو پنپنے نہیں دے گی تو کوئی دکاندار بے ایمانی نہیں کر سکتا۔مثلاً یہاں کے تاجر کا کاروبار ہمارے سودا خریدنے پر چلتا ہے۔اب اگر کوئی تاجر جھوٹ بولتا ہے اور سودا خریدنے والے میں غیرت ہے تو وہ اُس سے سودا نہ لے۔اور اُس کے خلاف شور مچادے۔پہلے وہ تحقیقات کرلے۔اگر ی تحقیقات کرنے پر یہ ثابت ہو جائے کہ وہ دکاندار جھوٹ بولتا ہے تو اُس سے سودا نہ خریدے۔اسی طرح دوسرے لوگ کریں تو چند دنوں میں ہی دکانداروں کو ہوش آ جائے۔پس تم اس بے ایمانی میں شریک ہو کیونکہ تم اُن کا ساتھ دیتے ہو اور تمہاری یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ بے ایمانی میں اور بھی بڑھیں۔پھر جو ذمہ دار افسر ہیں وہ بھی ان کے ہم پیالہ و ہم نوالہ ہیں۔مثلاً اگر کوئی دکاندار کسی افسر کا دوست ہے یا رشتہ دار ہے یا ہم قوم ہے یا ہم وطن ہے یا ہم علاقہ ہے تو وہ اس پر پردہ ڈالتا ہے۔حالانکہ قرآن کریم کہتا ہے کہ اگر تمہارا بیٹا یا تمہاری ماں یا تمہارا باپ بھی ہو تو تم اُس کی ناجائز حمایت نہ کرو 5۔کجا یہ کہ تم اُس کے ہم قوم ہو، یا ہم پیشہ ہو، یا ہم علاقہ ہو، یا ہم قرابت ہو۔ان چیزوں کی تو کوئی حقیقت ہی نہیں۔رسول کریم ﷺ نے تو فرمایا ہے کہ تم اپنے سگے ماں باپ ، بھائی بہن اور بیٹے کی بھی ناجائزہ حمایت نہ کرو اگر واقع میں پریذیڈنٹ اور سیکرٹری نگی تلواریں بن جائیں تو بے ایمانی ہو ہی نہیں سکتی۔پہلے تو جو افسر رپورٹ کرتے ہیں انہی کی بے ایمانی کا پتا لگتا ہے۔کیونکہ وہ لکھتے ہیں کہ انہیں موقع دیا گیا ہے تھا لیکن ان کی اصلاح نہیں ہوئی۔سوال یہ ہے کہ اگر وہ بے ایمان ہے اور پھر اسے موقع دیا گیا ہو تو ایسا افسر بے ایمان ہے اور اس دکاندار کی بے ایمانی میں شامل ہے۔بے ایمانی کے لئے کوئی موقع دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اگر کسی شخص کی بے ایمانی ثابت ہو جاتی ہے تو اُسے اُسی جگہ روک لینا چاہیے۔جو افسر اسے موقع دیتا ہے وہ گویا یہ کہتا ہے کہ میں نے اُس کے ساتھ کافی دیر تک دوڑ کی ہے۔لیکن اب تھک گیا ہوں اس لیے رپورٹ کرتا ہوں۔پس افسر بھی اس بے ایمانی میں شریک ہیں۔