خطبات محمود (جلد 34) — Page 113
$1953 113 خطبات محمود وائل اُن چند چوٹی کے دشمنوں میں سے تھا جو آپ کی ہمیشہ ہی مخالفت کیا کرتے تھے۔لیکن رسول کریم صلى الله کے ارشاد کے ماتحت زید اُس کے پاس گئے اور کہا وائل ! مجھے رسول کریم ﷺ نے بھیجا ہے اور کہانی ہے کہ اگر تم مجھے شہری حقوق دینے کے لیے تیار ہو۔جس کے یہ الفاظ مقرر تھے کہ اگر تم مجھے پناہ دو یعنی یہ کہہ دو کہ میں حفاظت کا ذمہ دار ہوں۔آپ مکہ میں واپس آجائیں تو میں دوبارہ مکہ میں آجاؤں۔محمد رسول اللہ ﷺ نے وائل کی فطرت کو پڑھا۔وائل آپ کا شدید ترین دشمن تھا۔اُس نے گیارہ سال تک آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو دکھ دیا تھا۔اُس کے پانچ لڑکے تھے۔اُس نے زیڈ کی بات سنتے ہی پنے لڑکوں کو بلایا اور اُن سے کہا تم تلوار میں نکال لو محمد ﷺ نے مجھ سے پناہ مانگی ہے اور میں خاندانی عزت اور وقار کے لحاظ سے اس بات پر مجبور ہوں کہ اُسے پناہ دوں۔شاید مکے والے ہمارا مقابلہ کریں صلى الله اس لیے تمہارا فرض ہے کہ تم ایک ایک کر کے مرجاؤ لیکن محمد ( رسول اللہ ﷺ پر کوئی آنچ نہ آنے دو۔اور وہ خود بھی اپنے لڑکوں کے ساتھ مکہ کے دروازہ کے پاس گیا اور آپ کو ساتھ لے آیا 3۔اس قسم کے نظارے اب بھی ملتے ہیں۔پچھلے فسادات میں بھی بعض لوگوں نے بڑی شرافت کی دکھائی ہے اور حکومت کے بعض ارکان نے بھی اپنی شرافت کا ثبوت دیا ہے لیکن بہر حال وہ انفرادی مثالیں ہیں۔جمہوریت کے نام پر جو آواز اٹھائی گئی تھی وہ تمہارے خلاف تھی۔میں تو اُسے اکثریت کی آواز نہیں کہتا مگر وہ مخالفت سے اکثریت ہی کی آواز کہتے تھے۔حکومت در حقیقت جمہوریت کی ہی ہوتی ہے۔شریف الطبع لوگوں کا ہمدردی کرنا ایک جزوی چیز ہے۔قانونی اور اصولی نہیں۔حق یہی ہے کہ تمہارے لیے اس زمین پر جس کو دنیا والے اپنی کہتے ہیں کوئی ٹھکانا نہیں۔لیکن ایک اور ہستی بھی ہے جو اس زمین کی ملکیت کی مدعی ہے۔یہ زمین بغیر نزاع کے کسی کی ملکیت نہیں۔بلکہ اس کے دو مدعی ہیں۔ایک مدعی حکومت اور جمہوریت ہے۔میں نے حکومت کا نام اس لیے لیا ہے کہ بعض جگہ جمہوریت نہیں ہوتی بلکہ شخصی حکومت ہوتی ہے۔لیکن اس زمین کی ملکیت کا ایک مدعی خدا تعالی بھی ہے۔خدا تعالیٰ بھی کہتا ہے یہ زمین میری ہے اور دنیا بھی کہتی ہے کہ زمین ہماری ہے۔اب پناہ دینے والا مالک ہوتا ہے۔اگر زمین کے مالک انسان ہیں تو یا درکھو تمہارے لیے اس زمین پر کوئی ٹھکانا نہیں۔تم آج بھی مرے اور کل بھی مرے۔لیکن اگر زمین کا مالک خدا تعالیٰ ہے اور حقیقتاً اس کا وہی مالک ہے اور تم اُسے پکارتے ہو اور اُس سے دعائیں کرتے اور مدد مانگتے ہو اور وہ تم کو اس زمین پر