خطبات محمود (جلد 34) — Page 114
$1953 114 خطبات محمود ہنے کی اجازت دیتا ہے اور تمہیں اس پر رہنے کا حق دیتا ہے۔اور کہتا ہے کہ تم عزت اور آبرو کے ساتھ میری زمین پر رہ سکتے ہو تو اگر وہ اس زمین کا مالک ہے تو تم اس زمین پر رہ سکتے ہو۔اور اگر وہ مالک نہیں تو تم باوجود اُس کی اجازت کے اس زمین پر نہیں رہ سکتے۔اب تم خود اپنے یقین کے لحاظ سے فیصلہ کرلو کہ روئے زمین کا مالک خدا تعالیٰ ہے جو عرش پر بیٹھا ہے یا انسان ہیں جو اس کی ملکیت کے دعویدار ہیں۔اگر اس کے مالک انسان ہیں تو وہ تمہیں ہر وقت گرانے کے لیے تیار ہیں۔اور اگر اس کا مالک خدا تعالیٰ ہے اور تم اُس سے دعائیں کرتے ہو، التجائیں کرتے ہو تو تم یا درکھو ان لوگوں کے دل بھی خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔تو میں ہمیشہ ایک رنگ میں نہیں رہا کرتیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے۔وائل رسول کریم ﷺ کا کتنا شدید ترین دشمن تھا۔لیکن جب رسول کریم ﷺ نے اس سے مدد مانگی تو وہ آپ کی مدد کے لیے تیار ہو گیا اور خدا تعالیٰ نے اُسے کہا تمہیں مدد دینی پڑے گی۔چنانچہ جس شخص کی ہے تلوار رسول کریم ہے کے مقابلہ میں اٹھتی تھی اُس نے اپنے سارے بیٹوں کو اپنے ساتھ لیا اور کہا۔تم ایک ایک کر کے مرجاؤ لیکن محمد رسول اللہ ﷺ کوکوئی تکلیف نہ پہنچنے دو۔وہی خدا آب بھی موجود ہے اور وہی دنیا بھی ہے۔اگر تم ان دنوں سے فائدہ اٹھاؤ، خدا تعالیٰ کے آگے گریہ وزاری کرو اور اُس سے مدد مانگو، تو اس میں یہ طاقت ہے کہ وہی لوگ جو تمہاری مخالفت کر رہے ہیں تمہاری تائید کرنے لگی جائیں، جو لوگ تمہارے مارنے کا ارادہ رکھتے ہیں وہ تمہاری زندگی کا موجب ہو جائیں، وہی لوگ جو تمہارے دشمن ہیں تمہارے دوست بن جائیں۔کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے سب کچھ میرے ہاتھ میں ہے۔میں دشمن کو دوست بنا سکتا ہوں۔اور یہ بات بھی سچ ہے کہ وہ دوست کو دشمن بھی بنا سکتا ہے۔پس تم اِن دنوں سے فائدہ اٹھاؤ اور خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگو تا اُس کی مدد اور نصرت کی سے تمہاری مصیبت کے دن مل جائیں۔حقیقت یہ ہے کہ مصیبت کے ان دنوں کا ٹلنا اصل چیز نہیں۔اس سے ہم صرف زندہ رہ سکتے ہیں۔مگر زندہ تو ہم اُس وقت بھی تھے جب ہم احمدی نہیں ہے تھے ، زندہ ہم تب بھی رہ سکتے ہیں اگر ہم اسلام کو چھوڑ دیں اور عیسائی ہو جائیں ، زندہ ہم تب بھی رہ سکتے ہیں اگر ہم یہودی ہو جائیں، ہندو ہو جائیں یا سکھ ہو جائیں۔پس زندگی ہمارا اصل مقصود نہیں۔ہمارا اصل مقصود یہ ہے کہ وہ تعلیم جو قرآن کریم اس دنیا میں لایا ہے اُس کے مطابق ہم اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کریں۔صرف زندہ رہنے کے لیے ہم کوشش نہ کریں بلکہ کوشش