خطبات محمود (جلد 33) — Page 53
1952 53 خطبات محمود اور اگر میں نے ان میں سے کسی کو مارا تو دوسرا اسے بچائے گا نہیں تو وہ سمجھتا ہے اب موقع ہے کہ میں ان پر حملہ کر دوں۔پس اگر چہ عقل اور محبت اپنی اپنی جگہ نہایت اہم ہیں لیکن بڑی چیز ان کے درمیان تو ازن قائم رکھنا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تو محبت کر لیکن ایک حد تک کر۔کیونکہ جس سے تو محبت کر رہا ہے ہو سکتا ہے کہ وہ ایک دن تمہارا دشمن ہو جائے۔پھر فرماتے ہیں تو دشمنی بھی کر لیکن ایک حد تک کر کیونکہ بہت ممکن ہے کہ جس سے تو دشمنی کر رہا ہے وہ تمہارا دوست بن جائے۔5 محبت کا سب سے بڑا نمونہ میاں بیوی کا ہوتا ہے۔لوگ شادیاں کرتے ہیں تو محبت سے ہی کرتے ہی ہیں ایک دوسرے کو دشمن سمجھ کر نہیں کرتے۔پھر ولیمے ہوتے ہیں لوگ ایک دوسرے کو مبارکبادی دیتے ہیں۔لیکن انہی شادیوں کے بعد بعض اوقات طلاق اور خلع کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔اُس وقت کہاں جاتی ہیں وہ خوشیاں اور کہاں جاتے ہیں وہ ولیمے۔بسا اوقات خاوند بیویوں کو قتل کر دیتے ہیں اور بیویاں خاوندوں کو زہر دے دیتی ہیں۔لیکن کیا شادی کے دن بھی اس کی کا کوئی شائبہ نظر آتا ہے؟ کسی گھر میں بچہ پیدا ہوتا ہے تو کتنی خوشیاں منائی جاتی ہیں۔کسی کو یہ پتا نہیں ہوتا کہ بڑا ہو کر یہ بچہ خوشی کا موجب ہوگا بھی یا نہیں۔ابو جہل جب پیدا ہوا تو کتنی خوشیاں منائی گئی ہوں گی۔اگر پیدائش کے وقت یہ پتا لگ جاتا کہ ابو جہل بڑا ہو کر خدا تعالیٰ کے رسول کی ج مخالفت کرے گا تو والدین بجائے خوشی منانے کے اُس کا گلا گھونٹ دیتے۔فرعون جب پیدا ہوا تو ماں باپ نے کتنی خوشیاں منائی ہوں گی۔لیکن کسی کو کیا پتا تھا کہ وہ بڑا ہو کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ کرے گا۔اگر پیدائش کے وقت یہ پتا لگ جاتا کہ فرعون بڑا ہو کر خدا تعالیٰ کے ایک نبی کا کی مقابلہ کرے گا تو والدین شاید اُس کا گلا گھونٹ دیتے۔اسی طرح نمرود اور شداد جب پیدا ہوئے تو کسی کو معلوم نہیں تھا کہ وہ بڑے ہو کر کیا بنیں گے۔اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کی ہیں کہ ایک حد کے اندر دوستی کرو۔اور اگر تم اس دوستی کی وجہ سے خدا تعالیٰ سے الگ ہو جاتے ہو تو یہ دوستی کسی کام کی نہیں۔اسی طرح فر ما یا اگر تم دشمنی کرتے ہو تو ایک حد کے اندر کرو اور عقل سے کرو۔کیونکہ اگر تم دشمنی کو انتہاء تک پہنچا دو گے تو ہو سکتا ہے کہ جس سے تمہاری دشمنی ہو وہ کی تمہارا دوست بن جائے۔اگر تم اُس کے خلاف ہر جگہ پرو پیگنڈا کرتے پھرو گے تو وقت آنے