خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 373 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 373

1952 373 خطبات محمود میں کون سی کسر رہ جاتی ہے۔خدا تعالیٰ تو قدوس پہلے سے ہے۔پس تم اپنے یہاں آنے کو زیادہ سے زیادہ موجب برکات بناؤ۔تم نے سردی برداشت کی ہے، یہاں آنے کے لئے پیسے خرچ کئے ہیں، تم بیوی بچوں سے جدا ہوئے ہو، اپنے کاموں کا نقصان کیا ہے۔پس اس تکلیف کا کچھ تو صلہ ملنا چاہیے۔تمہیں اتنے دن تک زمین پر سونے کا بھی تو صلہ ملنا چاہیے۔یا د رکھو خدا تعالیٰ تمہیں ان چیزوں کا صلہ دینے کے لئے تیار ہے۔لیکن صلہ لینے کے لئے تمہیں برتن بھی تو پیش کرنا چاہیے۔اگر تم اپنا برتن پیش نہیں کرتے تو خدا تعالیٰ صلہ کیسے دے گا۔پس تم دعاؤں میں لگ جاؤ۔اپنے اوقات کو زیادہ سے زیادہ ذکر الہی میں خرچ کرو اور اپنے یہاں آنے کو زیادہ سے زیادہ موجب برکات بناؤ تو یہ برتن بن جائے گا جس میں خدا تعالیٰ اپنا می صلہ ڈال دے گا۔اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو یہ اُس جلا ہے والی حرکت ہو گی جو بازار میں تیل لینے گیا اور برتن چھوٹا ہونے کی وجہ سے اُس نے سارا تیل ضائع کر دیا۔کہتے ہیں کسی جلا ہے نے اپنے بیٹے کو بازار سے تیل خریدنے کے لئے بھیجا۔اس نے ایک برتن لے لیا اور اندازہ لگایا کہ اس میں سارا تیل آجائے گا۔وہ برتن ایک کٹورا تھا جس کے پیچھے ایک حلقہ سا بنا ہوتا ہے۔اس نے دکاندار سے کہا اس برتن میں تیل ڈال دو۔دکاندار نے اُس کی برتن میں تیل ڈال دیا۔برتن بھر گیا اور کچھ تیل بیچ رہا۔دکاندار نے کہا کہ اتنا تیل بچ گیا ہے۔جلا ہے کے لڑکے نے کہا کوئی بات نہیں۔اُس نے برتن اُلٹا دیا اور کہا باقی تیل اس حلقہ میں ڈال دو۔جونہی اُس نے برتن اُلٹا ، سارا تیل بہہ گیا۔اور جب کٹورے کے پیندے میں تیل ڈلوا کر اُس نے کٹورا سیدھا کیا تو وہ سارا تیل بھی گر گیا۔پس ایسا آدمی جو جلسہ سننے کی غرض سے یہاں آتا ہے اور یہاں آکر اپنا وقت باتوں میں ضائع کر دیتا ہے اُس کی مثال اس جلا ہے کے بیٹے کی سی ہے جس نے اپنا سارا تیل ضائع کر دیا۔تم اپنے اوقات کو اس طرح استعمال کرو کہ کوئی وقت ضائع نہ جائے۔ایک تاجر ایک ایک دمڑی کا حساب رکھتا ہے تب کہیں جا کر فائدہ اٹھاتا ہے۔اسی طرح ایک دیندار شخص بھی دمری دمڑی کا حساب رکھتا ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے سودا کرتا ہے۔قرآن کریم نے اسے تجارت ہی قرار دیا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے اِنَّ اللهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمُ وَاَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ 1- یعنی اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی جانوں اور مالوں کو خرید لیا ط۔